breaking news New

بات کرنے کی تمیز – پہلا حصہ

کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ اپنے کسی کولیگ ، دوست یا باس سے بات کر رہے ہو اور وہ مستقل طور پر آپ کی بات کاٹ رہا ہو، جیسے ہی آپ کوئی جملہ کہیں کوئی شخص آپ کے جملے کو اچک لے– چاہے وہ آپ ہی کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے آپ کی بات کو آگے بڑھا رہا ہو- اس کے باوجود آپ کو لگتا ہے کہ یہ عمل بہت فرسٹریٹنگ ہے،اور تو اور صورتحال اس وقت مزید ناگوار ہو جاتی ہے جب وہ شخص آپ کے آدھے جملے کوپکڑ کر ایک بات کو ایک مکمل مختلف سمت دے دے، جبکہ اسے معلوم ہو کہ آپ کی سوچ ابھی اور آپ کا جملہ مکمل نہیں ہوا کیا یہ پاگل کر دینے والی کیفیت نہیں ہے ؟

کیا آپ کو ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ آپ کو سنا نہیں جا رہا؟ اور یہ اس قدر زیادہ ہو جاتا ہے کہ آپ کبھی کبھی یہ محسوس کرتے ہیں اور خود سے یہ کہتے ہوں کہ اب مجھے خاموشی ہی اختیار کرنی چاہیے کہ کیا فائدہ جب مجھے کسی نے سنتا ہی نہیں ہے، میری بات پر کوئی توجہ نہیں دیتا تو کیا ضرورت ہے میں اپنی بات کو پیش کروں ؟ اپنی رائے رکھوں؟

اس کے بعد آپ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ وہ شخص انتہائی خودغرض قسم کا بدتہذیب آدمی ہے جو کہ صرف اور صرف یہ نیت رکھتا ہے کہ وہ آپ کی بات سے اپنے مطلب کی چیز کو سمجھے اور اس کے بعد آپ کی پوری کنورسیشن کو، پوری گفتگو کو، تباہ و برباد کر کے رکھ دے ؟ انجام یہ ہو کہ آپ کا اس سے تعلق خراب ہوجائے، اور آپ اس شخص سے بات کرنے میں دلچسپی ہی نہ رکھیں ، اور ہوسکتا ہے کہ آپ اس سے قطع تعلق کرلیں۔ ہے نا ؟ ایسا ہی ہوتا ہے نا

اب ایسے معاملات کو ہینڈل کرنے اور ایسی صورتحال سے نکلنے کے لیے آپ کے پاس دو راستے ہیں ، ایک تو یہ کہ آپ اپنے منفی جذبات کو خود پہ قابو پانے دیں اور اس شخص کی مسلسل بدتہزیبی کی وجہ سے تعلق ختم یا محدود کرلیں ، یا پھر ایک ایسا متبادل راستہ اختیار کریں جو کہ آ مثبت انداز میں آپ کی سوچ کے زاوئیے کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دے اور آپ گفتگو کے ایک نئے انداز سے آشنا ہوں-

آج کے اس مضمون میں ہم آپ کو چند دلچسپ حقائق بتا رہے ہیں ، جن کو پڑھنے اور ان پہ عمل کرنے کے سے آپکا لوگوں کو سننے کا نظریہ مکمل طور پر تبدیل ہو جائے گا اور ہو سکتا ہے آپ لوگوں کے مداخلت کرنے سے اس طرح فرسٹریٹ بھی نہ ہوں۔۔ درج ذیل اصلاحات کو اپنائیے اور دیکھئے ان کے جادوئی اثرات-

گمان کی گمراہی سے بچیں۔

سب سے پہلے اپنے آپ سے یہ پوچھیے کیا وہ شخص جو سامنے بیٹھا ہوا آپ کی بات کو بار بار کاٹ کر اپنا مطلب دے رہا ہے کیا اس کا ٹریک ریکارڈ یہی ہے؟ کیا اس کی نیت یہی ہوتی ہے کہ وہ آپ کو تنگ کرے، کیوں کہ کچھ افراد انتہائی اذیت ناک حد تک ناگوار طریقے سے بار بار آپ کی بات میں مداخلت کرتے ہیں لیکن ان کو اس کا احساس نہیں ہوتا وہ اس بات سے مکمل طور پر نابلد ہوتے ہیں کہ وہ لاشعوری طور پر ہی سہی آپ کو کس قدر تکلیف دے رہے ہیں اگر آپ کو احساس ہو جائے ان کی نیت دانستہ طور پر ایسا کرنے کی نہیں ہے تو آپ ان کے اس سلوک کو بہت اچھے طریقے سے برداشت کرنے بلکہ اس کو ہینڈل کرنے کے بھی قابل ہو جائیں گے

میں آپ سے یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ ان کے سلوک کو قبول کر لیجئے ، قبول کرنے اور برداشت کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے جیسے ہی ان کی نیت سے واقفیت حاصل کریں گے ویسے ہی یہ عمل آپ کے لیے ازیت ناک کے بجائے قابل برداشت ہوجائے گا۔

جیسے ہی آپ اپنے آپ کو یہ باور کروا لیں گے کہ وہ شخص دانستہ طور پر باقاعدہ نیت کرکے ٹارگٹ کرکے آپ کے جملوں کو انٹرپٹ کرتے ہوئے آپ کو تکلیف دینے کا باعث نہیں بن رہا بلکہ وہ پورا عمل پوری ناگوار کیفیت محض اسکی نادانستگی کا ثبوت ہے نیتا وہ ایسا نہیں کر رہا اسی وقت آپ اپنے آپ کو اس بات پر قائل کر لیں گے کہ جب ایک شخص یہ کام میں جان کر نہیں کر رہا بلکہ وہ معصومانہ حد تک نادانستگی میں آپ کو تکلیف پہنچانے کا باعث بن رہا ہے تو آپ ، اس پہ غصہ کر کے تعلق خراب کر نے سے بچ جائیں گے ۔

ہو سکتا ہے اس کے سوچنے اور پراسیس کرنے کا انداز اور طریقہ ہی یہی ہو۔

ہو سکتا ہے وہ سوچتے ہیں ایسے ہو کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ کچھ افراد صرف اور صرف جملے اس لئے اچکتے ہیں ،بار بار مداخلت اس لئے کرتے ہیں کہ وہ اسی طرح انفارمیشن پروسیس کرتے ہیں، یا پھر اس کی تشریح کرتے ہیں اور خوشگواری کی بات تو یہ ہے کہ اکثر افراد صرف اور صرف اس لئے انٹرپٹ کرتے ہیں کہ تاکہ وہ آپ کو یہ باور کرواسکیں کہ ،وہ بات کو مکمل طور پر سمجھ رہے ہیں اور وہ آپ کی بات سننے میں دلچسپی بھی رکھتے ہیں اور اسے سمجھنا چاہتے ہیں اسی لیے بار بار لقمہ دے رہے ہیں جبکہ المیہ تو یہ ہے وہ یہ کام اچھی نیت کے ساتھ کرتے ہوئے مقصد کو سبوتاژ کر رہے ہوتے ہیں ان کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ آپ کو یہ باور کروائیں کہ آپ کی بات سنی جا رہی ہے اور اسی وقت آپ کی بات کو ریپیٹ کرکے اس سے متعلق سوالات کر کے اس میں اپنا موقف ایڈ کر کے یہ باور کروایا جارہا ہوتا ہے کہ جی ہم آپ کے ساتھ ہیں ہم اپنے اور لیکن اس کا یہ عمل الٹا باعث نقصان بن رہا ہوتا ہے جب کہ اس کے برعکس اس کی نیت صرف اور صرف گفتگو میں شمولیت کی ہوتی ہے وہ بار بار یہ ظاہر کر رہے ہوتے ہیں کہ وہ آپ کی بات کو جذب کر رہے ہیں اور اتنا اچھا سمجھ رہے ہیں کہ وہ آپ کے جملے کو کمپلیٹ کر رہے ہیں اب اس نظریے سے سوچیے تو آپ کو انٹرپٹ کرتا ہوا شخص اپنا ساتھی لگے گا۔

کیا آپ بہت زیادہ سوچ سوچ کر یا وقفہ دے کر جملہ مکمل کرتے ہیں ؟

آپ یہ سمجھیے کہ اگر آپ گفتگو کے دوران طویل وقفے لیتے ہیں تاکہ اپنی سوچ کو اپنے انفارمیشن کو مزید اچھی میچور کے پروسیس کر سکیں، تو یہ آپ ایک طرح سے مداخلت کار کو دعوت دے رہے ہوتے ہیں کیونکہ کچھ لوگ گفتگو کے دوران آنے والے طویل وقفات کی وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ شاید بات ختم ہوگئی اور وہ اس وقفے کو مداخلت کا دعوت نامہ سمجھتے ہیں یا پھر ان کا یقین یہ ہوتا ہے کہ سامنے والا اگر بات کرتے کرتے وقفہ لے رہا ہے تو شاید ان کی مداخلت گفتگو کرتے ہوئے شخص کی بات کو مکمل کرنے اس کو الفاظ چن کر دینے میں مددگار ثابت ہوگی ، پھر وہ خالی جگہیں پُر کرتے ہیں ،بھرتے ہیں وہ اس خاموشی کو اپنی ہم آہنگ سوچ سے بھردیتے کیوں کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا یہ عمل، اسپیکر کی مدد کے مترادف ہے ۔

ہوسکتا ہے مداخلت کار جلدی یا ذہنی دباو کہ کیفیت میں ہو۔

کچھ لوگ ہمیشہ جلدی میں رہتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ بات جلدی ختم ہو وہ اپنی بات یا رایے جلدی سے پیش کردیں اسی طرح سامنے والے کی بات جلدی سنیں کیونکہ ان کے ذہن پر وقت کا مستقل پریشر ہوتا ہے ان کو بہت سارے کام کرنے ہوتے ہیں ان کو گفتگو بھی اہم لگتی، لیکن کام بھی ان کی ترجیح ہوتا ہے اور وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ بات پوری سنے بغیر بات کا مطلب سمجھیں، اس بات یا موضوع کے مغز سے نتیجے پہ آتے ہوئے موضوع کو مکمل کریں تاکہ وقت مختصر بھی ہو تو کلام پورا ہوجائے اور بات ادھوری نہ رہ جائے یہی وجہ ہوتی ہے کہ وہ مستقل آپ کی بات کے دوران مداخلت کررہے ہوتے ہیں کیونکہ وہ ایک ساتھ بہت ساری بالز کو ہوا میں اچھال رہے ہوتے ہیں۔ جیسے ایک مداری بہت ساری گیندوں کو اپنے ہاتھ میں لے کے ہوا میں اچھال رہا ہوتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ کوئی بال گرنے نہ پائے اسی طرح ایسے افراد کے سر پر اتنے سارے کام /ذمہ داریاں اور اتنا کم ٹائم ہوتا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ گفتگو بھی ہو جائے، کام بھی ڈسٹرب نہ ہو، وقت بھی بچ جائے یہی وجہ ہوتی ہے کہ وہ عجلت میں باتوں کو مکمل کرنے کے چکر میں آپ کی گفتگو کو خراب کرتے ہیں جبکہ ان کی نیت ایسی نہیں ہوتی۔

یہ مداخلت کسی ذہنی تناو یا غصے کا اظہار بھی ہو سکتی ہے۔

ہو سکتا ہے یہ کسی طرح کی فرسٹریشن یا پھر غصہ ہو یا پھر کسی ذہنی دباؤ کی وجہ سے وہ یہ عمل بار بار دہرا رہے ہیں کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بہت سارے معاملات میں جب ایک ہی شخص گفتگو کیے جا رہا ہوتا ہے اور دوسرا شخص اس سے بات کرنا چاہ رہا ہوں اپنا موقف رکھنا چاہ رہا ہوتا ہے لیکن سامنے والا تواتر سے بولے جا رہا ہو، تو جسے گفتگو کی طلب ہوتی ہے اسے یہ بے چینی ہوتی ہے کہ ،مجھے بولنے کا موقع نہیں دیا جا رہا، تو وہ مستقل انٹر پٹ ہے ضروری نہیں ہے یہ ٹھیک ہو یا یہ پر اثر بھی ہو لیکن بہرحال یہ ایک قدرتی عمل ہے جو کہ ہم سب کرتے ہیں ۔۔ اپنے آپ سے پوچھیے کہ کیا یہ شخص جو آپ کو مستقل انٹرپٹ کر رہا ہے یہ انہی معاملات میں انٹرپٹ کرتا ہے گفتگو کے انھی پہلوؤں پہ آ کے کرتا ہے جو سبجیکٹ جو موضوعات حساس ہوں ،جس کے بارے میں وہ بے چین ہو یا پھر ،کسی بھی طرح کا جذباتی موضوع ، اس کی کسی نہ کسی کمزوری کو نادانستہ ہی سہی لیکن ایڈریس کر رہا ہو تو وہ شخص مستقل طور پر انٹرنیٹ کرتا ہے کیونکہ وہ جملے، وہ الفاظ، وہ کیفیات، اس کے اندر کی بے چینی کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ آپ کو انٹرپٹ کرے یا پھر آپ کی گفتگو کا رخ تبدیل کرے

اس پہلو پہ غور کیجئے ضروری نہیں ہے کہ یہ مداخلت آپ کو ٹارگٹ کرنے کے لیے ہو، ہوسکتا ہے کہ وہ شخص اپنی بات رکھنا چاہ رہا ہو، وہ یہ باور کروانا چاہ رہا ہوں کہ مجھے آپ کے فلاں جملے سے کچھ یاد آیا ہے میری کوئی ناگوار کیفیت ابھری ہے، کسی یاد نے ڈنگ مارا ہے ہے مجھے غصہ آرہا ہے یا مجھے فرسٹیشن ہوئی ہے یا میں اس موضوع کو لے کر پرجوش ہوں اس پر مفصل بات ہو سکتی ہے تو مجھے بولنے کا موقع دیجیئے۔۔

وہ یہ بات اس طرح کرنے کے بجائے مستقل مداخلت کرکے یہ ظاہر کر رہا ہوتا ہے کہ وہ خود بولنا چاہ رہا ہے۔ضروری نہیں ہے وہ آپ کے خلاف ہو ۔

خلاصہ یہ ہے کہ عمومی طور پر بہت کم ایسا ہوتا ہے بلکہ شاید نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے کہ کوئی شخص صرف تنگ کرنے کی نیت سے آپ کو گفتگو کے دوران بار بار ٹوکے۔صرف اور صرف ایک کیس میں ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ شخص ایک بدفطرت اور بد طینت شخص ہو، ہو وہ ایک بدمعاش ہوں وہ ایک ناگوار شخصیت کا مالک ہوں اس سے کمیونیکیٹ کرنے یا اس کو رسپانس کرنے کے اصول یکسر مختلف ہیں اگلے مضمون میں ہم آپ کو بتائیں گے کسی ایسے شخص سے نمٹنے کے طریقے جو باقاعدہ ٹارگیٹ کرکے باقاعدہ آپ کو ہدف بنا کے آپ کو شکار سمجھ کے آپ کی گفتگو کو خراب کرنے کی نیت سے ان کرپٹ کریں اس سے کیسے نمٹیں۔۔

<

0 Comments

Leave a Comment

Login

Welcome! Login in to your account

Remember me Lost your password?

Lost Password