breaking news New

بات کرنے کی تمیز – دوسرا اور آخری حصہ

پچھلے مضمون میں ہم نے کمیونیکیشن کے جو سیناریوز اور
ان کو ہینڈل کرنے کی جو تراکیب بیان کی تھیں، وہ صرف اس صورت حال یا ان افراد کے لیے تھے جو کہ دانستہ طور آپ کو ٹارگٹ بنا کر یا پھر، کسی بری نیت سے آپ کی بات نہیں کاٹٹے، بلکہ وہ یہ کام لاشعوری طور پر یعنی ،نادانستگی میں، ایک طرح سے آپ کو سپورٹ کرنے کے لئے ہی کر رہے ہوتے ہیں۔
اب یہ الگ بات ہے ،کہ انہیں اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ ان کا یہ عمل کس قدر تکلیف یا ذہنی اذیت کا باعث ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہم نے آپ کو ان افراد سے مثبت اور مفید انداز میں ڈیل کرںے کی تراکیب بھی بتائی تھی۔
آج کے مضمون میں ،ہم بات کریں گے ان افراد کے بارے میں، جو کہ باقاعدہ، ٹارگٹ بنا کر، دانستہ طور پر، آپ کو تنگ کرنے کے لئے، آپ کی بات میں مداخلت کرتے ہیں، آپ کے جملے اچکتے ہیں، آپ کی بات کاٹتے ہیں اور اس بات پر مجبور کر دیتے ہیں کہ آپ تنگ آکر، خاموشی اختیار کریں اور اپنی بات کو لوگوں تک نہ پہنچا سکیں، یہی ان کا مقصد ہوتا ہے ۔
ایسے تمام افراد کو دوران میٹنگ ،پروفیشنل یا ذاتی طور پر ڈیل کرنے کا کیا طریقہ ہے یہ جاننے سے، مختصرا یہاں میں ایک بات کی وضاحت کردوں کہ ایسے افراد جو کہ آپ کی بات کاٹ جان بوجھ کر نہیں کاٹتے ، بلکہ وہ آپ کے جملے کو اچک اس لیے مکمل کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ آپ کو یہ باور کروا سکیں ،کہ وہ آپ کی بات کو مکمل طور پر سمجھ رہے ہیں، موضوع کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں اور وہ آپ کو سننے میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں ،بس ستم ظریفی ہے کہ اس مثبت چیز کے اظہار جو طریقہ وہ استعمال کر رہے ہوتے یعنی، آپ کو ٹوک ٹوک کر آپ کو اپنی بات مکمل نہ کرنے دینے والا انداز، وہ کافی حد تک ناقابل برداشت ہوتا ہے لیکن جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ آپ اگر کسی شخص کی نیت جان سکیں، اس کا ٹریک ریکارڈ سمجھ سکیں، اس کی ذہنیت کو بھانپ سکیں ،تو ٹوکنے یا مداخلت کرنے جیسے بہت سے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے، اگرچہ ان کا رویہ مکمل طور پر ناقابل برداشت ناقابل قبول اور کسی حد تک تلخ بھی ہوتا ہے ۔ لیکن بہرحال وہ دشمن تو کیا مخالف تک نہیں ہوتے

اب بات کرتے ہیں ایسے افراد کی ،جو کہ آج کے مضمون کا موضوع ہیں، یعنی وہ افراد
و جو باقاعدہ، شعوری طور ، آپ کو تنگ کرنے کی نیت سے، آپ کی بات کاٹ رہے ہوتے ہیں ان سے نمٹنے کا طریقہ الگ ہے، درج ذیل تجاویز پر عمل کر کے ایسے افراد کی بیخ کنی کی جاسکتی ہے۔
ایک بات سمجھ لیجیے ایسے افراد کا کیس مکمل طور پر الگ طریقے سے ڈیل کیا جاتا ہے کیونکہ یہ لوگ آپ کو خوار کرنے ،ذلیل کرنے یا دوسروں کے سامنے گھٹیا قرار دینے کے لیے یا پھر آپ کی بےعزتی کرنے کے لئے ہی آپ کی بات کاٹ کر اسے مکمل طور پر الگ سمت دے کر، آپکی پوری بات میں سے ایک لفظ کو پکڑ کے ایک جملے کو پکڑ کے، گفتگو کے بہاؤ کو بار بار توڑتے ہیں تاکہ بالآخر آپ کو اشتعال دلاکر اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکیں، اس سے پہلے ہم آپ کو ان سے نمٹنے کے طریقے بتائیں آپ کو ایک بات اپنے ذہن میں واضح کر لینی ہوگی کہ ایسے افراد تمام لوگوں کے ساتھ یہ رویہ نہیں رکھتے یہ ان کی سوچوں اور عمل کا عمومی زاویہ نہیں ہوتا بلکہ کسی خاص شخص کے ساتھ ، یا کسی مخصوص موقع پر اپنی اس ذہنیت کا اظہار کرتے ہیں۔ اس لیے یہ لوگ، قابل معافی نہیں ، اور نہ ہی ان کے ساتھ کسی قسم کی مروت روا رکھنی چاہئے، کیونکہ وہ دانستہ طور پر بات کرنے والے کو، نیچا دکھانے کے لئے اور اپنی برتری کو باور کروانے کے لیے یہ کام کررہے ہوتے ہیں، باقی دنیا کے لیے ان کا رویہ درست ہوتا ۔ حتیٰ کہ اگر ان کا بس چلے تو وہ یہ کام مجمع، یا محفل میں بھی کریں کیونکہ ان کا مقصد صرف اور صرف آپ کو گھٹنوں کے بل گرانا ہوتا ہے، آپ کو جھکانا ہوتا ہے اور اگر وہ یہ کام مجمع میں کریں تو یہ ان کے لیے بہتر ہوتا ہے کیوں کہ محافل یا مجالس میں ان کو آپ کے علاوہ بھی بہت سارے اہداف مل سکتے ہیں جس سے ان کے احساس برتری کی تسکین زیادہ بہتر ہوتی ہے کیونکہ پھر وہ اپنی مرضی کے ہدف چن چن کر ،ان کی باتوں کو کاٹ کر، ان کے جملوں کو اچک کر ان کی گفتگو کو مکمل طور پر ایک الگ رنگ دے کر اپنی منفی ذہنیت کی تسکین کر سکتے ہیں۔
ایسے لوگ محفل میں، مجالس میں، مجمع میں، یا کسی کانفرنس /پروفیشنل میٹنگ میں یا کسی آڈییٹوریم میں اپنی مرضی کے چند افراد چن لیتے ہیں جن کو یہ بار بار ٹارگٹ کر کے ان کی بات کو کاٹ کر اپنے احساس برتری کو قائم رکھتے ہیں ایسے لوگ سے نمٹنے کا طریقہ مکمل طور پر الگ ہے جس میں بہترین انداز یہ ہے کہ

سب سے پہلے تو ان کو براہ راست باور کروایا جانا چاھیے کہ تمہارا رویہ ،یہ بات کاٹنا تمہارا یہ جملے اچکنا،تمہارا یہ گفتگو کو اپنی مطلب کر رنگ دے دینا یہ مکمل طور پر انتہائی نامناسب بلکہ غیر اخلاقی اور ناقابل برداشت ہے.

ایسے افراد سےکلام/ معاملات کرتے ہوئے آپ اپنے اور ان کے بیچ میں ایک لائن بنا لیجئے، جس کو پار کرنے کی قطعا اجازت نہ دیں بلکہ انہیں یہ سختی سے اور تیقن سے کہہ دیں کہ اگر تم نے یہ لائن کراس کی تو تمہارے ساتھ نرم رویہ اختیار نہیں کیا جائے گا
آفس ورک ہو یا کوئی میٹنگ یا پھر کوئی کانفرنس ایسے افراد کو خود پر حاوی مت ہونے دیں، ایچ آر ڈیپارٹمنٹ سے رابطہ کیجے یا پھر متعلقہ افسر سے بات کریں، انہیں ایسے افراد کے رویے کے بارے میں بتائیں بات بات پر بات اچک کر ، مداخلت کر کے گفتگو اور مزاج کے فوکس خراب کرنے والے افراد کے خلاف مکمل ثبوتوں کے ساتھ ایک کیس تیار کریں۔
یہ تو ہوا ان سے نمٹنے کا طریقہ، اب بات ہوجائے کچھ خودشناسی کہ یعنی خود کو جانچئیے کہ کیا آپ کو متواتر انٹرنپٹ کیا جا رہا ہے اور یہاں انٹرپٹ کرنے سے مراد وہ افراد جن کا ذکر ہم پہلے کر چکے جو نادانستہ طور پر یہ کام نہیں کرتے بلکہ یہ ان سے سرزد ہو رہا ہوتا ہے اگر ایسا مستقل ہو رہا ہے تو میرا خیال ہے کہ آپ کو اپنے کمیونیکیشن سٹائل پے غور کرنے اور اس میں کچھ تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے ۔

یہاں پر بھی دو صورتحال ہو سکتی ہیں
کیا آپ مداخلت کار ہیں
یا آپ کو مداخلت کا سامنا ہے
دونوں صورتوں میں ہم آپ کو کچھ تجاویز دے رہے ہیں جن پر عمل کر کے آپ اس مسئلے سے نجات پا سکتے ہیں

اگر تو آپ کو مداخلت کا سامنا ہے .

تیز تیز بات کیجئے، اور بجائے مٹرگشتی یا سیر سپاٹا یا بہت زیادہ ٹھہر ٹھہر کر بولنے کے انداز میں بات کرنے کے بجائے تیزی کے ساتھ اپنی بات مکمل کر لیجیئے

بات کرنے کے دوران لوگوں سے اپنی باتوں پہ تبصرے لیجئے ،ان کی رائے جانئے ، لوگو ں کو مدعو کیجئے کہ وہ آپ کی بیان کی گئی بات یا موضوع کے بارے میں کیا موقف رکھتے ہیں یعنی ایک طرح سے کسی کی مداخلت کرنے سے پہلے ہی آپ خود سننے والے کو اپنے ساتھ گفتگو میں انگیج کرلیں

اس کے علاوہ آپ یہ بھی کر سکتے ہیں کہ جیسے ہی یہ کوئی آپ کی بات میں مداخلت کرنے لگے آپ اسے کہیں کہ
ایک سیکنڈ میں اپنی بات مکمل کر لوں یہ جملہ کہہ کر اسے وہیں روک دیں۔
یعنی مداخلت کار کو ہی انٹرپٹ کردی۔

جیسا کہ ہم نے پہلے کہا تھا کہ آپ کو اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آپ کو مستقل مداخلت کا سامنا ہے؟
کیا مداخلت کار ایک ہی ہے
یا ہر کوئی آپ کی بات کو کاٹتا ہے آپ کے جملوں کو توڑتا ہے آپ کی گفتگو کو مکمل الگ رنگ دےکر بات کے موضوع کو بے ربط کر دیتا ہے اگر ایسامتواتر اور ہر شخص کی طرف سے ہو رہا ہوں تو ہو سکتا ہے آپ کو اپنے سپیکنگ سٹائل یا پھر کمیونیکیشن سٹریٹیجی پر کام کرنے کی ضرورت ہو

اب اگر آپ خود مداخلت کار ہو تو کیا کریں؟

سب سے پہلی بات اگر تو آپ بار بار مداخلت کرنے کے عادی ہو لیکن اب اس بات کو سمجھتے بھی ہوکہ یہ عادت بری ہے اور آپ اس سے جان چھڑانا چاہ رہے ہو تو پہلا کام ہہ کیجئے
اپنی بات کو ایک بار کرنے کی عادت ڈالی ہے ایک بار بات کیجیے اور آگے بڑھ جائیں
دوسری بات یہ ہے کہ آپ دائروں میں بات کرنے سے گریز کریں یعنی مختصر بات کریں ، بجائے موضوع کے گرد بین السطور کی فصیلیں کھڑی کرنے یا کسی قسم کا ابہام پھیلانے کے۔
آپ کوئی بھی بات کرنا چاہتے ہو اس بات کو سادہ اور سلیس انداز میں بیان کردیں بجائے گول مول بات کرنے کی تاکہ سننے والا، سمجھنے کے بجائے اس کا کوئی غلط مطلب نہ نکال لے اور اس کو ایسے ایڈریس نہ کرے کہ وہ بات کہیں کی کہیں چلی جائے
اس سب کے باوجود اگر آپ مداخلت کر بیٹھیں۔ تو اسی وقت سامنے والے سے معزرت کیجئےاور جو بول رہا ہوں اسے دوبارہ بولنے کا موقع دے کر یہ جملہ بھی ادا کیا جاسکتا ہے کہ معذرت میں نے آپ کی بات کاٹی آپ بات جاری رکھیئے، کیجئے میں اپنی بات بعد میں کر لوں گا
یہ تجاویز اپنا کر آپ اس مسئلے سے مکمل طور پر نجات پاسکتے ہیں مختصراً یہ کہ مداخلت کرنا انسانی فطرت ہے یہ سننے والے کو یا بات کرنے والے کو اندازہ ہونا چاہیے کہ وہ مداخلت جان بوجھ کر کی جا رہی ہے یا پھر نادانستگی میں ،دونوں صورتوں میں کس طرح پیش آنا چاہیے وہ ہم نے مفصل بیان کردیا ، مذکورہ بالا تجاویز پر عمل کیجیے اور زندگی میں مثبت تبدیلی آتے دیکھیے۔

<

0 Comments

Leave a Comment

Login

Welcome! Login in to your account

Remember me Lost your password?

Lost Password