breaking news New
دس مشہور ترین ناول نگار - سحر ڈاٹ ٹی وی

چند مشہور ناول نگار

انگریزی ادب میں بہترین ناول نگاروں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ایک آرٹیکل میں ان سب کے بارے میں لکھنا یقینا ناممکنات میں سے ہے ۔ اس مضمون میں قارئین کو چند عالمی سطح پر شہرت پانے والے ناول نگاروں کا تعارف پیش کرنی کی اپنی ایک ادنی سی کوشش کی گئی ہے۔

جے آر۔آر ٹولکین

ٹولکین کا جنم 3 جنوری 1892 میں ہوا۔ ٹولکین نے ابتدائی تعلیم کنگ ایڈورڈ اسکول سے حاصل کی ۔ جب کہ انگلش لینگویج اور لٹریچر کی تعلیم انہوں نے ایگزیٹر کالج، آکسفورڈ سے حاصل کی۔ ٹولکین کی پہلی انگریزی نظم کالج کے ایک رسالے میں شایع ہوئی ۔ ٹولکین کی سیکنڈ لیفٹیننٹ کے طور پر بھی بھرتی ہوئی۔۔ بعدازاں ٹولکین نے میرٹن کالج آکسفورڈ میں پروفیسر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں۔ ٹولکین کو نیشنل یونیورسٹی آف آئر لینڈ کی طرف سے اعزازی ڈگری سے بھی نوازا گیا ۔
بچوں کے لیے لکھے گئے بہت سے ناول اور کہانیاں ٹولکین کی پہچان بنے۔ البتہ ان کے سب سے مشہور ناول ”دی ہابٹ“ کو ادبی حلقوں اور عام قارئین نے خوب سراہا۔ ”دی ہابٹ“ کی کامیابی پر انہیں ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ۔ اس ناول کی کامیابی کے بعد ٹولکین نے اسی کے تسلسل میں مزید تین کامیاب کتب لکھیں اور اس سلسلے کو ”دی لارڈ آف دی رنگس“ کا نام دیا۔ اس سلسلے کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس پر فلمیں بھی بن چکی ہیں اور ان فلموں کو آسکر ایوارڈ سے نوازا جاچکا ہے۔ اس ناول نگار کا انتقال 2ستمبر 1973 کو انگلینڈ میں ہوا۔

ولیم گولڈن

19 ستمبر 1911 میں پیدا ہونے والے سر ولیم گولڈنگ نے شاعر، ڈرامہ نگاراور اسکول ماسٹر کی حیثیت سے بھی کام کیا مگر دنیا میں ان کا نام ان کے لکھے گئے ناولوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ بہترین ناول لکھنے پر سر ولیم کو نوبل پرائز اور بہت سے انعامات سے نوازا گیا۔ ان کی تصانیف میں بارہ ناول، ادب اور فکر پر مبنی مضامیں و تنقیدی جائزے ، نظمیں اور مختصر افسانے اور کہانیاں شامل ہیں۔ ان کے لکھے گئے ناول کم و بیش پینتیس زبانوں میں ترجمہ ہوچکے ہیں۔ ابتدا میں اکیس پبلشرز نے جس ناول کو مسترد کر کے شایع کرنے سے انکار کیا۔ وہی ناول ”لارڈ آف فلائیز“ سر ولیم کا بہترین ناول مانا جاتا ہے۔ 19 جون 1993 کو سر ولیم گولڈنگ کا 81 سال کی عمر میں انتقال ہوا۔

چارلس ڈکنز

چارلس نے 7فروری 1812 میں جنم لیا۔ ڈکنز نے اپنا بچپن کافی نا موافق حالات میں گزارا ۔ بہت چھوٹی عمر میں ان کو اسکول چھوڑکر ایک فیکٹری میں ملازمت بھی کرنی پڑی تھی ۔ چارلس نے ایک وکیل کے پاس منشی کی حیثیت سے بھی کام کیا ۔ بعد میں شارٹ ہینڈ سیکھ کر ایک اخبار میں صحافت شروع کی ۔ یہ ملازمتیں چارلس کے لکھاری بننے کے سفر میں کافی معاون ثابت ہوئیں ۔ ان ملازمتوں سے حاصل ہونے والا مواد ، تجربات و مشاہدات ڈکنز کے ناولوں میں قاری کو واضح نظر آتے ہیں ۔ چارلس کی لکھی گئی قسط وار داستان ”پک وک پیپرز“ بہت مقبول ہوئیں ۔ ان کا انتقال 9 جون 1870 میں ہوا۔

جارج آرول

جارج آرول 25 جون 1903 انڈیا میں پیدا ہوئے ۔ جارج جب ایک سال کے ہوئے تو ان کی ماں جارج اور ان کی بہن کو لے کر انگلینڈ میں رہائش پذیر ہوئیں ۔
جارج آرول نے اپنی زندگی میں بہت سی مشکلات کا سامنا کیا ۔ اپنی معاشی ضروریات کی وجہ سے جارج چھوٹی موٹی ملازمتوں سے منسلک رہے ۔ یہاں تک کہ انہوں نے ایک بار برتن دھونے کا کام بھی کیا ۔
جارج کو لکھنے کا شوق بچپن سے ہی تھا ۔ محض گیارہ سال کی عمر میں ان کی ایک نظم اخبار میں شایع ہوٸی ۔ مگر جارج کو زیادہ تر لوگ ان کے لکھے ہوئے ناولوں سے ہی جانتے ہیں۔ آرول نے اپنی زندگی میں بہت سی کتب لکھیں مگر قارئین ان کو دو مشہور ناولوں ” اینمل فارم“ اور ”نائینٹین ایٹی فور“ کی وجہ سے جانتے ہیں ۔ یہ دونوں شاہکار ناول بیسویں صدی کے بہترین ناولوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ جارج آرول ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد 21 جنوری 1950 کو لندن میں انتقال کر گئے تھے۔

سر آرتھر کونین ڈوائل۔

سر آرتھر 22 مئی 1859 اسکاٹ لینڈ میں پیدا ہوٸے۔ پیشے کے لحاظ سے وہ ایک ڈاکٹر بھی تھے اور انہوں نے میڈیکل کی تعلیم یونورسٹی آف ایڈن برگ سے حاصل کی ۔ البتہ بطورِ فزیشن ان کو کچھ خاص کامیابی نہیں ہوئی ۔ وہ اپنے مریضوں کا انتظار کرنے کے دوران کہانیاں لکھتے تھے ۔ دنیا ان کو فزیشن کے بجائے ، مشہور کردار ” شیر لاک ہومز“ کے خالق کی حیثیت سے جانتی ہے۔ سر آرتھر کونین اپنے وقت کے ان پہلے ناول نگاروں میں سے ہیں جنہوں نے محدب شیشے / میگنی فائنگ گلاس کو اپنے ناول ”دی اسٹڈی ان اسکارلٹ“ میں سراغ رسانی کے آلے کے طور پر پیش کیا۔ سر آرتھر کا انتقال 7جولائی 1930 کو انگلینڈ میں ہوا۔

آئن فلمنگ

فلمنگ 28 مئی 1908 میں لندن کے امیر اور اثرع رسوخ والے خاندان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی تعلیم انگلینڈ، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ سے حاصل کی ۔ ناول نگاری سے پہلے فلمنگ صحافت، اسٹاک بروکنگ اور بینکنگ کے شعبات سے بھی وابستہ رہے ۔
دوسری جنگِ عظیم میں انہوں نے برٹش نیول انٹیلیجنس کے لیے کام کیا ۔ جنگ کے بعد اس ملازمت سے ملنے والے تجربات و مشاہدات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فلمنگ نے اپنا پہلا ناول ”کسینو رائل“ لکھا ۔ اس ناول کا ہیرو ”جیمز بانڈ “ ایک سراغ رساں ہے ۔ اس ناول کی کامیابی کے بعد فلمنگ نے اپنے وقت کی سب سے بہترین ناول سیریز ”جیمز بانڈ 007“ لکھی ۔ اس سیریز پر فلمیں بھی بن چکی ہیں ۔ اس کے علاوہ بھی فلمنگ نے کہانیاں لکھیں لیکن ان کی پہچان کا سبب ”جیمز بانڈ“ ہی بنا ۔ فلمنگ کا انتقال 12 اگست 1964 کو ہوا۔

رولڈ داھل

رولڈ 16 ستمبر 1916 میں پیدا ہوئے ۔ ادب اور فوٹوگرافی کے علاوہ ان کو بچپن میں کھیل کود بالخصوص فٹ بال کھیلنے کا شوق تھا۔ رولڈ نے ایئر فورس میں بھی خدمات سرانجام دیں ۔ بچوں کے لیے لکھی گئیں ان کی مزاحیہ کہانیاں بہت مشہور ہوئیں ۔ ان کا لکھا گیا بچوں کا ناول ” جیمز اینڈ دی جیئمانٹ پیچ“ بہت پسند کیا گیا ۔ رولڈ نے نا صرف بچوں بلکہ بڑوں کے لیے بھی کہانیاں اور ناول لکھ کر اپنی پہچان بنائی ۔ ان کی لکھی گئی کہانی ” چارلس اینڈ دی چاکلیٹ فیکٹری “ کو تھیٹر میں ڈرامے کے طور پر بھی پیش کیا گیا ۔ رولڈ کا انتقال 23 نومبر 1990 میں انگلینڈ میں ہوا۔

اگاتھا کرسٹی۔

اگاتھا کرسٹی نے 15 ستمبر 1890 میں جنم لیا۔ کرسٹی کو بچپن سے ہی مطالعے کا شوق رہا ۔ دس سال کی عمر میں انہوں نے اپنی پہلی نظم لکھی ۔ اگاتھا کرسٹی نے بہترین جاسوسی ناول لکھ کردنیا بھر میں شہرت پائی۔ کرسٹی کو جاسوسی ناول اور کہانیاں لکھنے کی والی سب سے بڑی مصنفہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کی لکھی گئی کتابیں سب زیادہ فروخت ہونے والی کتب میں شمار ہوتی ہیں۔ کرسٹی نے 66 جاسوسی ناول اور چودہ کہانیوں کے مجموعے لکھے جو اب تک متعدد زبانوں میں شایع ہوچکے ہیں۔ کرسٹی کی وفات 12 جنوری 1976 کو پچاسی سال کی عمر میں ہوئی ۔

جین آسٹن

آسٹن 16 دسمبر 1775 میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے اپنی زیادہ تر تعلیم گھر پر ہی حاصل کی ۔ لکھنے کے علاوہ جین کو سلائی اور رقص کا بھی شوق تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ جین نے عام زندگی میں جو مشاہدہ کیا وہی اپنے ناول میں بیان کر دیا ۔ آسٹن دنیا میں رومانوی ناول نگار کی حیثیت سے پہچان رکھتی ہیں ۔ دنیا میں زیادہ تر قارٸین ان کو ناول ”پرائڈ اینڈ پریجوڈائس“ کی مصنفہ کے طور پر جانتے ہیں ۔ آسٹن کا سنِ وفات 8 جولاٸی 1817 ہے ۔

سی ۔ایس ۔ لوائس

لوائس 29 نومبر 1898 میں آئرلینڈ میں پیدا ہوئیں۔ ان کو دنیا بچوں کے ناول نگار کی حیثیت سے جانتی ہے۔ ان کی لکھی ہوئی کتابیں دنیا بھر میں تیس سے زائد زبانوں ترجمہ ہو کر میں شایع ہوچکی ہیں۔ ان کی لکھی گئی سیریز ”دی کرانیکلز آف نارینا“ سب سے زیادہ مقبول ہوئی ۔ اس سیریز پر اب تک تین کامیاب فلمیں بھی بن چکی ہیں ۔ لوائس نے 22 نومبر 1963 میں آکسفورڈ میں وفات پائی۔

<

0 Comments

Leave a Comment

Login

Welcome! Login in to your account

Remember me Lost your password?

Lost Password