breaking news New

25 April – ملیریا کا عالمی دن

دنیا بھر میں ہر سال 25 اپریل کو “ملیریا کا عالمی دن” منایا جاتا ہے۔
اس دن کو منانے کا باقاعدہ آغاز 2007 میں ہوا یہ دن “عالمی ادارہ صحت” کے زیر انتظام منایا جاتا ہے 2007 سے یہ دن باقاعدہ طور پر منایا جاتا ہے اور لوگوں کو ملیریا سے بچنے کی ترغیب دی جاتی ہے اور ملیریا کے مرض کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے
کیونکہ ملیریا آج کل ایک بہت خطرناک مرض بن چکا ہے اور تقریبا آدھی سے زیادہ دنیا کو اس مرض کا خطرہ لاحق ھے ملیریا ایک عالمی مسئلہ ہے اور یہ صرف ترقی پذیر ممالک کو ہی نہیں درپیش بلکہ ترقی یافتہ ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے ۔۔ایک اندازے کے مطابق کہا جاتا ہے کہ ہر سال ملیریا ساڑھے چار سے پانچ لاکھ افراد کی موت کا باعث بنتا ہے۔۔ عالمی صحت کے مطابق پیش کی جانے والی ایک رپورٹ میں اس بات کا دعوی کیا گیا ہے کہ2016 میں دنیا میں تقریباً 21 کروڑ لوگوں پر ملیریا نے حملہ کیا اور ان میں سے ساڑھے چار لاکھ تقریباً لقمہ اجل بنے۔۔
ملیریا سے متاثرہ ہونے والے افراد میں تقریباً ہر سال 70 فیصد تعداد بچوں پر مشتمل ہوتی ہے ملیریا اگر بگڑ جائے تو یہ وبائی صورت بھی اختیار کر سکتا ہے آپ ایڈز کے مرض سے واقف ہونگے لیکن کہا جاتا ہے کہ ملیریا میں مبتلا ہونے والے مریضوں کی تعداد ایڈز سے بھی کہیں زیادہ ہے ۔۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ جن ممالک کو ملیریا کے خطرے سے لاحق ممالک میں شامل کیا گیا ہے ان میں ہمارا اپنا پیارا ملک پاکستان بھی شامل ہے جہاں پر ہر دوسرے فرد کو ملیریا کا خطرہ لاحق ہے عالمی ادارہ صحت کے مطابق ملیریا پاکستان میں دوسری وبائی بیماری ہے ۔
جیسا کہ پاکستان کی زیادہ تر آبادی دیہاتوں پر مشتمل ہے اس لیے وہاں صحت کی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے اس لیے پاکستان میں شرح اموات زیادہ ہے
ہاں لیکن ہم اس بات سے بھی منہ نہیں موڑ سکتے کہ دنیا میں کئی ممالک ایسے بھی ہیں جنہوں نے اس مرض پر قابو پایا ہے ان ممالک میں سری لنکا بھی شامل ہے اس ملک کو عالمی ادارہ صحت نے ملیریا فری قرار دیا ہے اس مرض پر قابو پانے کا طریقہ بس لوگوں میں مرض کے حوالے سے شعور جگانا ہے ۔۔۔ اگر ٹھوس اقدامات کیے جائیں تو اس مرض پر مکمل قابو پایا جا سکتا ہے۔۔
ملیریا ایک ایسا مرض ہے جو کہ مادہ مچھر سے پھیلتا ہے اور اسکی وجہ ایک پیراسائٹ ہے جس کو پلازموڈیم کا نام دیا گیا ہے اس کی پانچ اقسام ہیں پلازموڈیم کی سب سے عام قسم وائی ویکس ہے اگر خطرناک قسم کی بات کی جائے تو فیلسی پیرم ہے اگر وائی ویکس سے آدمی ملیریا کا شکار ہو جائے تو مریض کا پیچھا آسانی سے نہیں چھوٹتا مطلب انسان بار بار ملیریا میں مبتلا ہوتا رہتا ہے۔۔ اگر یہ مرض شدت اختیار کر لے تو مریض میں کافی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں ۔۔۔
ان پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے ہی ملیریا کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ اس دن لوگوں کو اس سے بچنے کے لیے حفاظتی تدابیر دی جائیں اور ملیریا سے بچنے کے لیے حفاظتی اقدامات کئے جائیں حکومت تو اپنا کام کرے گی لیکن لوگوں کو بھی چاہیے کہ جو اس مرض سے واقفیت رکھتے ہیں وہ دوسروں کو بھی اسکے خطرے سے خبردار کریں اور حکومت کے ساتھ مل کر اس دن کو منائیں اور اس دن ایسے پروگرام منعقد کئے جائے جن مین ملیریا کے متعلق معلومات فراہم کی جائیں اور اس کے علاج کے بارے میں بتایا جائے تاکہ لوگوں میں شعور پیدا ہو اور لوگ اس کے خطرے سے خبردار رہیں ۔۔۔

<

0 Comments

Leave a Comment

Login

Welcome! Login in to your account

Remember me Lost your password?

Lost Password