breaking news New
23 April - کتابوں کا عالمی دن - سحرڈاٹ ٹی وی

کتابوں کا عالمی دن

دنیا بھر میں آج کتابوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے یہ دن 23 اپریل کو ہر سال منایا جاتا ہے ۔
اقوام متحدہ کے زیر انتظام ٹیم یونیسکو نے آج سے کئی سال پہلے 23 اپریل کو کتابوں کا عالمی دن قرار دیاتھا آج کے دن کو کتابوں کے عالمی دن کے لیے منتخب اس لیے کیا گیا کیونکہ آج انگریزی زبان کے مفکر شیکسپیئر کی برسی بھی ہے اور آج کا دن کتابوں کے لیے منتخب کرنے کا مقصد کتابوں سے اظہارِ عقیدت اور ان کے انتقال سے منسوب کر نے کے لیے کتابوں کا دن منایا جاتا ہے ۔۔۔
آج کے دن کو منانے کا مقصد معاشرے میں کتابوں کے پڑھنے کو رجحان دینا اور اور لوگوں میں کتب بینی کا جذبہ پیدا کرنا ہے وہ لوگ جو خاص طور پر نئی صدی کی پیداوار ہیں اور ڈیجیٹل زمانے میں رہ رہے ہیں اور ٹیکنالوجی نے انہیں مکمل طور پر اپنے اوپر منحصر کرلیا ہے۔۔
وہ لوگ جو کتاب بینی کے شوقین ہوتے ہیں اور کتابوں کو اپنا ساتھی مانتے ہیں وہ اس بات سے بخوبی واقف ہوتے ہیں کہ بے شک کتاب ایک بہترین ساتھی ہے جو کہ بہترین علم مہیا کرتی ہے ایسے لوگوں کے لئے یہ دن یعنی کہ کتابوں کا دن بہت خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے وہ لوگ یہ دن خصوصی دلچسپی سے مناتے ہیں اور دوسروں کو بھی یہ دن منانے کی ترغیب دیتے ہیں
جس معاشرے کے لوگوں میں کتب بینی کا جذبہ کم ہوتا ہے ان کے ذہن بوسیدہ ہو جاتے ہیں اور وہاں کتاب اور علم میں رجحان تقریبا نہ ہونے کے برابر ہو جاتا ہے۔۔۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی اولاد اور اپنے بچوں کو کتابیں پڑھنے کی ترغیب دی تاکہ آنے والی نسلیں جو ہیں ان میں کتب بینی کا جذبہ ہو یہ بات بھی ضروری نہیں کہ انہیں صرف کتب بینی کا زبردستی عادی بنایا جائے بس انہیں یہ ترغیب دی جانی چاہیے کہ وہ کتاب پڑھنے میں دلچسپی لیں اور زیادہ سے زیادہ کتابیں پڑھیں تاکہ ان کے علم میں اضافہ ہو اور میں بہت کچھ نیا سیکھنے کو ملے اس کام کے لیے حکومت کو چاہیے کہ ملک میں لائبریریاں قائم کریں تاکہ لوگوں کی رسائی مہنگی اور نایاب کتابوں تک آسان ھو اور وہ بنا کسی پریشانی کی کتابیں پڑھ سکیں ۔۔
کتاب کی اہمیت ہر دور میں بہت زیادہ رہی ہے وہ معاشرے جن میں لوگ صاحب دانش ہوتے ہیں وہ وقت برباد کرنے کی کی بجائے کتب بینی میں دلچسپی لیتے نظر آتے ہیں
ہاں یہ بات تو ہے کہ 23 اپریل کو کتابوں کا عالمی دن قرار دیا گیا ہے لیکن یہاں پاکستان میں اس دن میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لی جاتی اور یہ بس لائبریریوں اور خبروں میں بحیثیت خبر نشر کرنے سے زیادہ نہیں منایا جاتا ہے اس لیے اگر ہم یہ کہیں کہ یہ دن خاموشی سے گزر جاتا ہے تو ہم کچھ غلط نہ کہیں گے کتاب انسانی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے جو کہ اس کے ذہن میں آنے والی سوچوں کو بیدار کرتی ہے اور اس کی قوتوں کی بھی نشاندہی کرتی ہے لوگوں کو خیالات سے نوازتی ہے اور طالب علموں کے لیے یا کتابوں کا مطالعہ کرنے والوں کے لئے غور و فکر کے بہت سے دروازے کھولتی ہے لیکن یہ ایک نہایت افسوس والی بات ہے کہ آجکل کتب بینوں کی تعداد کم سے کم ہوتی جا رہی ہے لوگ نہ جانے کیوں آلات کے پیچھے بھاگتے ھیں اور کتابوں میں دلچسپی نہیں لیتے یہ ایک نہایت افسوس کی بات ہے ایک طرف تو لوگ کتابیں پڑھنے میں دلچسپی نہیں لیتے لیکن دوسری طرف ان کو کوئی کتابیں پڑھنے کے لئے خاص اقدامات نہیں کیے جا رہے ہیں وہ اپنی پسندیدہ کتب با آسانی حاصل نہیں کر پاتے یہاں جو اچھی کتابیں ہوتی ہیں وہ بہت مہنگی ہوتی ہیں اس وجہ سے ان تک پڑھنے والوں کی رسائی کم ہوتی ہے اور وہ کتابیں نہیں پڑھ پاتے۔۔
اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو یہاں کا جو ماحول ہے اس نے کتابیں پڑھنے والوں کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں کی ۔۔ ہاں اگر حوصلہ افزائی کی ہے تو کسی کا پڑھنے کا دل بھی کرے اور لکھنے کا بھی ہاں وہ دور بھی تھا جب لوگ صبح اخبار کا مطالعہ کیا کرتے تھے اور بعد میں کتابوں کا ۔۔کئی لوگ سفر میں بھی کتابوں کو ساتھ لے جایا کرتے تھے اور سفر کے دوران کتابوں کا مطالعہ کیا کرتے تھے لیکن اب ایسا کوئی بندہ نظر نہیں آتا اور جو نظر آتا ہے لوگ اس کی تذلیل کرتے ہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور وہ بچارا کتاب چھپانے میں ہی اپنی بہتری محسوس کرتاہے
اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہمارے ملک میں بھی کتب بینی کو فروغ دیا جائے اور پڑھنے والوں کے لیے لائبریریاں قائم کی جائیں اور ان کے لیے کتابیں فراہم کی جائیں تاکہ کتابیں پڑھنے کو فروغ ملے اور اس دن کو خاص طور پر منایا جائے تو پھر ہی لوگوں میں کتب بینی کا جذبہ بیدار ہوگا لوگ کتابوں کی طرف آئیں گے اور معاشرہ ادب کی طرف جائے گا کتاب دوست قومیں ہی ترقی منازل طے کرتی ہیں۔۔۔

<

0 Comments

Leave a Comment

Login

Welcome! Login in to your account

Remember me Lost your password?

Lost Password