breaking news New
سوال کرنے کا صحیح طریقہ - سحر ڈاٹ ٹی وی ، بلاگز - زوہیب اکرم

ذہانت سے بھرپور سوال کرنے کا طریقہ

موضوع : سوال کرنے کے طریقے ، اور مناسب وقت ۔

اس مضمون میں ہم جانیں گے۔

گفت و شنید /عام بول چال کے بارے میں چند بنیادی باتیں ۔

سوال کرنے کے غلط اور صحیح  طریقے ۔

سوا ل کرنے کا مناسب وقت ۔

سوال کرنے سے پہلے  سوچی جانے والی چند تدابیر،

جواب معلوم کرنے کے بہتر طریقے

گفتگو کو خوبصورت اور نرم انداز میں ، آگے بڑھانے کا طریقہ

مخاطب سے سوال و جواب کی شکل میں معلومات اکٹھی کرنے  کی چند سادہ تراکیب

گفت و شنید ،/ عام بول چال کے بارے میں چند بنیادی باتیں ۔

بول چال کا ہنر یعنی آرٹ آف سپیکنگ ، یا کمیونی کیشن ، معلوم انسانی تاریخ کی دریافت شدہ صلاحتیوںاور مہارتوں میں ایک  اہم ترین صلاحیتوں ہے ۔ یہ ہنر ،یہ ٹیکنیک ،لیڈروں ،استادوں  اور کلیدی عہدوں  پر فائز اہم  ذمہ داریاں  سنبھالنے والے افراد کے لیے دگنی اہمیت کی حامل ہے۔

کہتے ہیں کہ اگر اپنی بات سمجھانا چاہتے ہو، تو پہلے دوسرے کی سمجھنا سیکھو . کیوں  کہ ہم میں سے ، بہت سے افراد صرف جواب دینے کے لیے سنتے  ہیں ،سمجھنے کے لیے نہیں۔۔

کہا یہ بھی جاتا ہے  کہ یہ جو    قدرت نے ایک زبان اور دو کان دئیے ہیں ان میں  ،دو سن کر، ایک کہنے کی حکمت پوشیدہ ہے۔

یعنی، جتنا بولنا چاہتے ہو، اس سے دوگنا سننے کی عادت ڈالو،دو جملے کہنے ہیں تو چار سننے کی صلاحیت پیدا کرو۔

دس کہنے ہیں تو ،بیس سننے کی عادت ڈالو ،

اور ضروری نہیں ،کہ یہ جملے بازی ،لڑائی جھگڑے منفی مباحثوں یا پھر غیر ضروری ڈسکشن پر ہی موقوف ہو ۔

بلکہ، یہ اصول ،مفید مکالموں یا پھر گفتگو پر  بھی لاگو کیے جاسکتے ہیں اور کیے بھی وہیں جانے چاہیں ۔

سوال کرنے کے طریقے

بولنا ہو یا پھر سننا ،سوال کرنا ہو یا پھر ، جواب دینا،کوئی بھی چیز ،بے ربط نہیں ہوتی اور  نہ  ہی ہونی چاہیے۔

 خصوصا سننے کا عمل تو ، کلی طور پر بےربط، غیرمنظم یا پھر بے ترتیب نہیں ہونا چاہیے۔

 کیونکہ آپ سننے کے عمل سے گزرتے ہی  اس لیے ہیں کہ آپ کچھ سیکھنا ،سمجھنا یا سننا چاہتے ہیں ۔

اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوا  ،کہ بول چال یا کمیونیکیشن کو بھرپور طریقے سے رواں رکھنے ، یعنی بولنے اور سننے کے عمل کو بے نوا ہونے سے بچانے کے لیے ضروری ہے ،کہ سوال کرنے کا طریقہ اور مناسب موقع  معلوم ہونا چاہئے ،

 کیونکہ یہ بات بہرحال ممکن ہے کہ غلط سوال یا پھر سوال کا غلط طریقہ دونوں صورتوں میں آپ کو غلط جواب کے سوا کچھ نہیں دے گا

سوال کرنے کا مناسب وقت

اسی طرح غلط وقت پر پوچھا جانے والا ٹھیک سوال بھی غلط جواب کا سبب بنتا ہے۔

 غلط وقت سے مراد وہ وقت ،  جب  سوال پوچھا جارہا ہوں  اور جس شخص سے پوچھا جا رہا ہو ، اس کی ترجیحات ،

آپ یا پھر آپ کے سوالات سے زیادہ اہمیت کے حامل ہوں۔

 اور اسی وجہ سے وہ آپکے سوال یا آپ کی طرف متوجہ نہ ہو سکے نہ اسے ٹھیک سے سن سکے تواس بات کا امکان بہرحال موجود ہے کہ  آپ کو ،  درست جواب نہیں ملے گا اور یہی ہمارا آج کا موضوع ہے کہ ٹھیک وقت  پر، ٹھیک تناظر میں، ٹھیک سوال کیسے پوچھا جائے

تو آئے جانتے ہیں ، وہ تراکیب جن کو سمجھ کر کمیونی کیشن کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے

درج ذیل تجاویز اور اصولوں پر عمل کر کے آپ ٹھیک ٹھیک سوال کرنے کی کوشش کیجئے اور نتیجہ دیکھئے۔

سوال کرنے سے پہلے  سوچی جانے والی چند تدابیر

خطیبانہ انداز اپنانے سے گریز کیجئے

جوش خطابت،  فن تقریر  ہو یا پھر  خطیبانہ  انداز،  یہ سب اپنانے سے۔۔۔ آپ کو سب کچھ مل سکتا ہو گا لیکن، آپ کے سوال کا جواب نہیں ۔

کیونکہ ایسے سوال جو مذکورہ انداز میں پوچھے جائیں وہ جواب کی نیت سے پوچھے ہی نہیں جاتے ،حتی کہ یہ سوال باقاعدہ سوال بھی نہیں ہوتے بلکہ ان کو بنایا یا پوچھا ہی  اس لئے جاتا ہے کہ سامنے والا اشتعال میں آئے ،یا پھر آپ اس کو کسی ایک مخصوص جواب اپنی مرضی کےردمل  تک لے کے جانا چاہ رہے ہو تے ہیں ، جس کا حاصل وصول، بے کار کی بدمزگی کے علاوہ کچھ نہیں۔

دوستانہ انداز اپنائیے

ایک اچھے سوال کا مقصد صورت حال کی وضاحت اور مناسب جواب ہوتا ہے ۔

ایسا سوال جو سامنے والے کو صورتحال کی مکمل معلومات فراہم کر کے ، اسے جواب دینے پر مائل کرے،

 میں نے مائل لکھا ہے مجبور نہیں،

 ایک اچھااورذہین سوال سمجھا ہی وہ جاتا ہے ،  جس کے نتیجے میں سامنے والے کے ذہن میں صورتحال پوری طرح آشکار ہوجائے اور وہ اس پہ غور کر کے جواب دینے کے قابل ہو سکے، اس سوال کو ، پہنچانے کا انداز یا طریقہ انتہائی نرم اور دوستانہ ہوناچاہئے ۔

جبکہ دوسری طرف اگر آپ دوستانہ رویہ اپنائے بغیر محض سامنے والے کو ذلیل کریں، اس کی  بےعزتی کرنے کی نیت سے سوال کریں تو لامحالہ وہ شخص اپنے دفاع پر مجبور ہوجائے گا اور ایسی صورت میں بہت مشکل ہے کہ آپ کو ایک ایماندارانہ اور واضح جواب مل سکے تو سوال پوچھیں ، لیکن دوستانہ انداز میں، اتنا صاف اتنا واضح، کہ سامنے والے کو جواب دینے میں کسی قسم کا  کوئی تامل نہ ہو۔

جال بچھانے سے گریز کریں

کہتے ہیں کہ سوال کرنے اور ٹریپ کرنے میں فرق ہے۔

 مثلا کوئی ایسا سوال ،جس کا ہرممکن جواب صرف اور صرف سامنے والے کو پھانسنے کا تاثر دے رہا ہو ،  تو وہ سوال نہیں بلک پھندا ہوتا ہے۔ اس کے جواب میں آپ دفاع کی امید تو کرسکتے ہیں لیکن  اپنے  مطلوبہ جواب کی نہیں ۔

مثلا اگر آپ سے کوئی یہ سوال کرے کہ

 کیا آپ اب بھی پاگل خانے میں زیر علاج ہیں ؟

 یا پھر کیا آپ اب بھی اپنی بیوی سے بے وفائی کے مرتکب ہورہے ہیں ؟

اس کے علاوہ

آپ   نے جس شخص کا سر پھاڑا تھا کیا وہ زندہ بچ گیا؟

 اب ان سوالوں کا جو بھی جواب ہو وہ کم ازکم معنویت اور ایمانداری سے عاری ہوگا  لہذا،

اپ سوال کریں لیکن ، دوسرے کے  گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے سوالنامہ تیار نہ کریں ۔

جواب معلوم کرنے کے بہتر طریقے

سوالوں کا دائرہ متعین نہ کریں

یہ بات ٹھیک ہے کہ ،چند سوال واقعی

ہاں

نہیں

پتا نہیں

 اس طرح کے جوابات کے متقاضی ہوتے ہیں لیکن اکثر اوقات ایسے جوابات غلط ہوتے ہیں سو بہتر یہ ہے کہ آپ غیر محدود سوال یا پھر اوپن مائنڈ سوال کیجئے جن کا کوئی مصنوعی دائرہ نہ ہو ۔

اور اس کے بعد جواب دینے والوں کو تھوڑا وقت دیجئے کہ وہ مناسب وضاحت تفاصیل کل ، جز ،  تجزیہ ، مظاہر، ابہام ،اشکال سب بیان کرسکے ور اس کے جواب میں یہ تمام چیزیں بدرجہ اتم موجود ہوں ،

 بہت نہ سہی کم از کم تھوڑا بہت ہی اس کے  جواب میں تفصیل موجود ہو ، یہ بھی ایک طریقہ ہے ، جواب لینے کا ، کیوں کہ ، جس سے سوال کیا جا رہا ہوں آپ اسے ذہنی کشادگی کے ساتھ اور دباؤ کے بغیر جواب دینے کا موقع دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ  بہت آرام دہ  محسوس کرتے ہوئے  جواب دیتا چلا جاتا ہے ۔

شکریہ ادا کرنے کی عادت ڈالی

دل راغب نہ ہو، و ذہن کم ظرفی کی طرف آمادہ ہو تربیت اور  فطرت میں احسان فراموشی اور تلخی گھلی ہوئی  ہو اس کے باوجود زبان سے شکریہ کہ دو بول جادو  کا اثر رکھتے ہیں۔

لہذا،  اپنے مطلوبہ جواب کو وصول کرکے شکریہ ادا کیجیے کہ اس شخص کے وقت اور جواب کا کیونکہ عین ممکن ہے کہ آپکو دوبارہ اسی آدمی سے سوال پوچھنے کی ضرورت پیش آجائے۔

ذہنی دباؤ یا کسی منفی صورتحال میں گھرے  شخص سے سوال نہ کیجئے۔

ایسے وقت  میں سوال نہ  کریں،  جب سامنے والا کسی ذہنی دباؤ  میں ہو ،

سوال کرنے کے لئے بہترین وقت کے ادراک و شعور ہونا ہی  ، ٹھیک جواب ملنے کا ضامن ہے۔

 ایک لمحے سوچئیے ،  کہ آپ کو جواب کی جلدی تو نہیں ؟

اگر نہیں ۔۔، تو اسے تھوڑا سا ریلیکس ہونے کا وقت دیجئے۔۔

 آپکا یہ انتظار اس بات کو یقینی بنائے گا ک، ہ آپ کو ملنے والا جواب ، کوالٹی اور تفصیل دونوں کے لحاظ سے بہت ہی اعلی ہوگا کیوں کہ آپ نے جس سے سوال کیا اسے سوچنے اور کرنے کا وقت دے دیا۔

گفتگو کو خوبصورت اور نرم انداز میں ، آگے بڑھانے کا طریقہ

براہ راست سوال سے گریز کریں

گو  کہ آپ ،   مناسب انداز میں مخصوص اور جامع جواب کے لیے کوشاں ہیں،

 لیکن کوشش کیجیے کہ بہت زیادہ براہ راست یا پھر مخصوص کر کے سوال نہ کریں۔

 جس سے سامنے والے کو یہ تاثر ملے کہ آپ اسے مجبور کر رہے ہیں کہ وہ کم اور مختصر بات کرکے،

 محض آپ کویا آپ کے وقت کو اہمیت  دینے کے لیے جواب دے ، یاد رکھئیے ، سوال آپ لے کر آئے ہیں ، گویا وقت جواب دینے والے کا زیادہ اہمیت کا حامل ہے ، کیوں کہ ایک تو وہ آپ کے سوالوں کو سنے ، سمجھے ، اور پھر سوچے ، اور پھر جواب بھی آپ کی مرضی ، لمبائی ، اور مخصوص مدت متعین کر کے دے ؟ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ایسی صورتحال میں انسان تنگ آکر سخت جواب بھی دے سکتا ہے ؟خصوصا ایسے افراد جو ہروقت  سخت حالات کا شکار رہتے ہوں ، جن کے مسئلے شیطان کی آنت کی طرح ہوتے ہیں ، ایسے افراد سے سوال کرنے کا طریقہ براہ راست کے بجائے بالواسطہ ہونا چاہیے

براہ راست سوال کی مثال

ہمیں کس طرح کی فلم بنانی چاہیے رومانوی یا ڈراونی؟

بالواسطہ سوال کی مثال

عوام اس وقت کس طرح کی فلمیں دیکھنا چاہ رہی ہے اور ہمارے پاس فلم بینوں کی ضروریات اور شوق کی تسکین کے لئے کیا آپشنز اور ذرائع ہیں

خاموشی سنہری نعمت ہے

اپنے آپ کو سننے پر مائل کریں م، جبور نہیں،  مائل  کریں

وہ کیسے ؟

وہ ایسے کہ

اپنے ذہن کو  مخاطب کر کے ، باربار یہ جملے دہرائیں ،

 مجھے لوگوں کو سننا پسند ہے ،

میں اپنی مرضی سے ، اپنی پسند سے ،لوگوں کو سننا چاہتا ہوں ۔

میرے ذہن کو لوگوں کی باتیں سننا اچھا لگتا ہے

 یاد رکھئے گفتگو کر دو طرفہ نہ بھی ہو تب بھی ، گفت و شنید چلتی رہتی ہے ، ایک کہتا رہے ، دوسرا سنتا رہے ، تب بھی ، گفتگو میں با ل نہیں آتا، ہاں اگر آپ سوال کرنا چاہتے ہیں ، اور بار بار کرنا چاہتے ہیں تو سوالوں کے درمیان وقفے  لیجئے، گہری سانس لیجیے ،اس عمل سے آپ کو، اور جس سے سوال پوچھا جارہا ہے اسے ،سکھ کا سانس لینے کا موقع ملے گا  اور وہ اپنے آپ کو ، اگلے سوالوں کے لیے ذہنی طور پر تیار کرسکے گا۔

یہ عمل آپ کی بول چال کو بامعنی گفتگو بنانے میں مدد دے گا نہ کہ تفتیش کا سا ماحول ۔

مخاطب سے سوال و جواب کی شکل میں معلومات اکٹھی کرنے  کی چند سادہ تراکیب

آخر میں ایک بات یاد رکھیے کہ سوال وہ پوچھیں ،  جن کا جواب دینے میں آپ کو بھی کوئی تامل نہ ہو،

 اور اس طرح پوچھیں ، جس طرح اگر آپ سے پوچھا جائے تو آپ جواب دینے میں کسی الجھن یاچڑ چڑاہٹ کا شکار نہ ہوں۔

اس کا طریقہ بہت سادہ اور بہت آسان ہے

آپ  جو بھی سوال ،جس سے بھی کرنا چاہتے ہیں ،  ایک لمحے کو رک کر ، وہی سوال اپنے آپ سے کیجئے اور

سوچیے کہ یہ سوال اگر آپ سے کیا  گیا ہوتا تو آپ کا کیا جواب ہوتا؟

 اگر وہ جواب ناگوار ہے تو سوال کو یا تو روک لیجئے یا انداز کو تبدیل کر لیجئے۔

<

0 Comments

Leave a Comment

Login

Welcome! Login in to your account

Remember me Lost your password?

Lost Password