breaking news New

وادی سندھ کی تہذیب و ثقافت

ہر قوم کی اپنی ایک تہذیب اور ثقافت ہوتی ہے جو ان کو دوسری قوموں سے منفرد بناتی ہے۔ دنیا میں موجود سب ہی اقوام کی ثقافت اپنے اپنے لحاظ سے خوبصورت ہوتی ہے۔ پاکستان میں رہنے والی بھی ہر قوم اپنی ایک منفرد اور خوبصورت ثقافت کی حامل ہے ۔ صوبہ سندھ کی تہذیب و ثقافت بھی اپنے آپ میں ایک منفرد رنگ رکھتی ہے۔ پاکستان کی سندھی زبان بولنے والی آبادی کا اسی سے نوے فیصد حصہ صوبہ سندھ میں آباد هے۔

سندھ کے لوگ اور ان کی رسومات

سندھی لوگوں کی اکثریت بہت سادہ ، ملنسار اور مہمان نواز ہے۔ مہمان چاہے کسی بھی وقت آجائے غریب سے غریب لوگ بھی اپنے گھر کی روکھی سوکھی روٹی ضرور کھلاتے ہیں۔ یہاں مہمان کوئی مرد ہو یا عورت انہیں اجرک تحفے کے طور دیا یا پہنایا جاتا ہے۔
کچہری ،
سندھ کے مرد حضرات کسی اوطاق یعنی بیٹھک میں جمع ہوتے ہیں۔ یہ کچہری اکثر شام یا رات کے اوقات میں ہوتی۔ سردیوں میں اسے ”مچ کچہری“ بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ سردی سے بچاٶ کے لئے چارپائیوں اور موڑوں کے بیچ آگ جلائی جاتی ہے۔ یہاں ہر موضوع پر گفتگو کی جاتی ہے۔ شعر و شاعری ،کافی اور کلام وغیرہ سنے جاتے ہیں ایک دوسرے سے ۔۔ یہ سندھ کے گاوں دیہاتوں میں عام ہوا کرتی تھی لیکن اب وقت کے ساتھ اس روایت میں کمی ہوتی نظر آتی ہے ۔
شادی بیاہ کے مواقع پر گھر میں عورتیں آس پڑوس سے بھی آکر رونق لگاتی ہیں۔ سندھی گیت،جنہیں ”سہرے یا ڳيچ “ کہا جاتا ہے، ڈھولک یا تھال کی تھاپ پر شادی کے دن سے کئی دن پہلے ہی گانے شروع کر دیئے جاتے ہیں۔ شادیوں میں کئی دن پہلے مایوں بٹھانے کا رواج ہے۔ دولہے کو رنگ برنگی موڑ پہنانے کا رواج اور رخصتی سے پہلے ”لاواں“ دینے کی رسم بہت منفرد ہوتی ہے۔

سندھی لباس

سندھی مردوں کا ثقافتی لباس شلوار قمیض ، سندھی ٹوپی ہوتا ہے۔ جبکہ عورتوں کے لئے شوخ رنگ کپڑوں پر ہاتھ کی کڑھائی سے دیدہ زیب ڈیزائن کاڑھے جاتے ہیں۔ سندھ کے ثقافتی اجرک کسی ایک صنف کے لئے مخصوص نہیں ۔ یہ اجرک خواتین اور مرد بھی پہنتے ہیں۔

سندھ کے روایتی کھانے

سندھی کھانوں کے ذائقے لاجواب ہوتے ہیں۔ ہر قسم کی دال اور سبزیاں بھی ذائقے دار بنائی جاتی ہیں۔ سبزیوں میں یہاں کچنار، سوہانجنا، بیھ ، ساگ ، پلی ، گوار وغیرہ زیادہ مشہورہیں اور بنائی بھی بہت لذیذ جاتی ہیں۔۔
چٹنیاں اور اچارسندھ میں شوق سےبنائے اور کھائے جاتے ہیں ۔ ویسے تو ہر جگہ اور بہت سے گھروں میں بھی اچار بنایا جاتا ہے ۔۔ مگرخاص طور پر شکارپور کے اچار مشہور ہیں۔ مکس سبزی اچار، آم کا اچار، لیموں کا اچار اور پیازکا اچار بہت زیادہ شوق سے کھائے جاتے ہیں ۔
سندھی بھت بھی ہر گھر میں بنتے ہیں۔ نمکین بھت یعنی چاولوں کو صرف نمک تھوڑے سے گھی اور پانی میں پکا کر نرم چاول تیار کئے جاتے ہیں۔ اکثر غریب یا مویشی پالنے والے لوگ یہ بھت رات کو بناتے ہیں اور پھر دودھ کےساتھ کھایا جاتا ہے ۔ دوسری بھت کی قسم پلاٶ کی طرح ہوتی جس میں عام طور پر آلو ہری مرچ وغیرہ ڈال کر مگر بہت کم مسالاجات کے ساتھ چاول بنائے جاتے ہیں۔ تیسری قسم میٹھا بھت، چینی سے بھی بنایا جاتا ۔ مگر جب چاول گڑھ ڈال کر پکائے جائیں تو ان کی لذت دوبالا ہوجاتی ہے ۔ گڑسے بنائے جانے والے بَھت کو عموماً طاہری کہا جاتا ہے۔ میٹھا بھت زیادہ تر سردیوں میں بنایا جاتا ہے ۔
چاول کی ایک ڈش سندھی بریانی پاکستان بھر میں مقبول ہے۔ یہ عام طور پہ ہر گھرمیں تو نہیں بنائی جاتی البتہ تہوار یعنی عید شادیوں وغیرہ پر بنتی ہے یا پھر اونچے طبقے کے لوگ مہینے میں ایک یا دو بار بناتے ہیں، بریانی لذت اور ذأئقہ سے بھرپور ہوتی ہے۔
سندھ میں مچھی مانی بھی بنائی جاتی هے۔ مانی مطلب روٹی اور مچھی یعنی مچھلی کا سالن جو آلو ڈال کر شوربے والا سالن بناکر سادہ روٹی کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔
متوسط اور اونچے طبقے کے گھروں میں موسمِ سرما میں پنجیری بنائی جاتی ۔ یہاں تقریبا ہر جگہ ”لائی “ بھی بنتی ہے ۔ جسے چکی بھی کہا جاتا ہے ۔ یہ بھی اکثر سردیوں میں ہی کھائی جاتی ہے۔ چاول ، تل ، مونگ کی لائی گڑھ یا چینی ڈال کر بنتی ہیں۔
پھر سوجی اور میدے کے حلوے، سویاں اور پیھوں عام طور پر اور ہر تہوار پربھی بنتے ہیں۔ جبکہ یہاں مٹھایاں بھی بہت مزے کی بنائی جاتی ہیں۔

صوبہ سندھ کے ہنر اور دستکاری

سندھ کی ثقافتی دستکاری میں سب سے زیادہ نمایاں چیز رنگوں کا امتزاج ہوتا ہے۔ یہاں بنائی جانی والی ہر چیز میں دلکش رنگ جگمگاتے نظر آتے ہیں۔ سندھی لوگ خاص طور پر نچلے طبقے کے لوگ بہت ہنر مند ہیں۔ مرد حضرات خوبصورت قالینوں کی بنائی کا کام کرتے ہیں جو بہت محنت طلب ہوتا ہے۔ تین لوگ مل کر پندرہ دن میں مشکل سے ایک قالین بن پاتے ہیں۔ جب کہ ان کو اجرت بھی بیوپاری کی طرف سے بہت کم ملتی ہے۔
سندھ کے لوگ لکڑی کا کام کرتے ہیں۔ یہاں لکڑی سے بنائی جانے والی اشیاء کو خوبصورت رنگوں سے آراستہ کیا جاتا ہے۔ لکڑی کی گھریلو استعمال کی اشیاء مثلاً اکھلی مہلی، چکرا بیلن عام طور پر ہر گھر میں موجود ہوتے ہیں۔
یہاں کی خواتین ہاتھ کی سلائی اور کڑھائی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ ہاتھ سے کئے جانے والے مختلف ”بھرت“ بہت نفاست اور محنت سے کرتی ہیں خواتین۔ یہ بھرت رومال، چادروں ،تکیوں کے غلاف، دسترخوانوں ، بچوں اور مردوں کے کرتے، بچیوں کی فراکس اور کپڑوں پر اور خواتین کے کپڑوں پر بھی ہاتھ سے کئے جاتے ہیں۔ بھرت کی سب سے خوبصورت اور محنت طلب قسم ہُرمِچ کہلاتی ہے۔
یہاں پر لڑکیاں اور خواتین اپنے لئے ”چوٹی یا سڳي “ ( جسے پنجابی میں پراندا کہا جاتا ہے ) بھی بناتی ہیں ۔ جسے بالوں میں باندھا جاتا ہے۔ ازار بند بھی ہاتھ کے کام سے ہر رنگ کے بنائے جاتے ہیں۔
سندھ کے لوگ ثقافتی ٹوپی تو بناتے ہی ہیں مگر اس کے علاوہ گھر کے استعمال کی اشیاء بھی بناتے ہیں۔ ہاتھ والی پنکھی، کھجور کے پتوں سے بنائی جاتی ہے۔ اس کے علاہ ”دبکی“ ، یہ بھی کجھور کے پتوں سے بنائی جاتی اور یہ روٹی رکھنے کے کام آتی ہے۔ موڑے ، جو کرسی کی طرح ہوتے ہیں۔

سندھ کی رلیاں

سندھ کی رلیاں پاکستان ہی نہیں پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ رلی سینے کا سارا کام ہاتھ پر ہوتا ہے۔ رلی کی بہت سی ڈیزائن بنائے جاتےہیں۔ مثلاً ٹُک والی، پھولوں والی ، پٹیوں والی، ٹکڑیوں والی الغرض اگر کوئئ سندھ میں گھوم پھر کر دیکھے تو یہ ان گنت نام کی رلیاں مل جائیں گی ۔
یہاں کے لوگ ہنر مند ہیں مگراکثرغریب طبقے کے لوگ یہ سب کام اپنی زیب و زینت ، اپنے گھرکی سجاوٹ یا مشغلے کے طور پر نہیں کرتے ۔ بلکہ دو وقت کا رزق کمانے کے لئے کرتے ہیں۔ جبکہ بیوپاری حضرات ان سے کم اجرت پر لے کر اندرونِ اور بیرونِ ملک مہنگی قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔ بعض چیزیں تو لاکھوں کے دام پر بکتی ہیں مگر اس مزدور طبقہ کو بمشکل چند ہزار اجرت دی جاتی ہے۔

<

0 Comments

Leave a Comment

Login

Welcome! Login in to your account

Remember me Lost your password?

Lost Password