breaking news New

بچوں کی تربیت کے حوالے سے دس اہم نکات

بزرگوں کا کہنا ہے کہ پہلے سات سال تک بچہ والدین کا غلام ہوتا ہے سات سے چودہ سال تک مشیر یعنی کبھی والدین کی بات مان لیتا ہے اور کبھی اپنا مشورہ دیتا ہے اور چودہ سال کہ بعد والدین کا دوست یا پھر دشمن.. اگر آپ نے تربیت اچھی کی ہے تو وہ آپکا بے دام غلام اور خدمت گار اور اگر تربیت میں کوئی کوتاہی ہوجاۓ تو پھر چودہ سال کے بعد اس میں سدھار لانا ایسا ہی ہے جیسے کسی سخت لوہے کو کوئی شکل دینا..
اس لیے بچے کے ابتدائی چودہ سال بہت اہم اور توجہ طلب ہیں.. جس کے لیے ان دس نکات کو ذہن میں رکھیں

 

حدیث میں ہے کے بچوں کو تین چیزیں لازمی سکھائیں
*اللہ سے محبت
* نبی کریم سے محبت
*قرآن سے محبت
اس کے لیے ضروری ہے کہ بچوں کو اللہ کی محبت ، رسول کی شفقت اور رحم دلی کے اور انکے علاوہ صحابہ کرام اور اولیاء عظام کی حالاتِ زندگی کو آسان اور قصے کہانیوں کی صورت میں سنائیں تاکہ یہ باتیں انکی فطرت میں رچ بس جائیں

 

 بچے کی غلطی پہ اُسے سب کے سامنے لعن طعن سے گریز کریں اس طرح بچہ نہ صرف شرمندہ ہوتا ہے بلکہ اس میں بغاوت کے جذبات بھی پیدا ہوتے ہیں. بہتر طریقہ یہ ہے کہ مار پیٹ اور لعن طعن کے بجائے اپنی ناراضگی کے اظہار سے بچے کو اسکی غلط حرکت کا احساس دلایا جاۓ..

 

بچوں کو ڈرا کر یا سختی سے کسی کام کا حکم نہ دیں.. اپنی بات منوانے یا کام کروانے کے لیے محبت کو ہتھیار بنائیں.

 

 سوالات پوچھنے پہ جھڑکنے کے بجائے تحمل سے تسلی بخش جواب دیں.. ڈانٹ ڈپٹ سے بچے گھبراکر اپنے مسائل چھپانے کے عادی بن جاتے ہیں اور اپنے اندر اٹھنے والے سوالات کے اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ انتہائی خطرناک عمل ہے

 

ضروری نہیں کہ ہر بچہ ذہین ہو کچھ بچوں کے سیکھنے کا عمل دوسرے بچوں کی نسبت سست ہوتا ہے ایسے بچوں کو انکی ذہنی سطح پہ آ کر انتہائی صبر وتحمل سے پڑھائیں اور سکھائیں۔۔ آپ دیکھیں گے کہ ذہنی کمزوری کے باوجود ایسے بچے بہترین انسان کی صورت میں سامنے آئیں گے

 

بچوں کو انکی عمر کے مطابق ذمہ داریاں سونپیں آپکے اس عمل سے بچوں میں خود اعتمادی پروان چڑھے گی اور وہ مستقبل میں بہترین فیصلہ ساز اور منتظم ثابت ہوں گے.

 

7.. بلاوجہ کی روک ٹوک اور ڈانٹ ڈپٹ بچوں کی تخلیقی صلاحیت کے پروان چڑھنے میں رکاوٹ ثابت ہوتی ہے. بچوں کو ایک حد تک کام کرنے کی آزادی دیجیے اور نہایت عمدگی سے ان کا رخ تخلیقی سرگرمیوں کی طرف موڑیں..

 

 ایک بچے کا موازنہ دوسرے بچے سے کرنے سے گریز کریں. بچوں میں مثبت مقابلے کی فضاء پیدا کریں. ہر وقت اور ہر چیز میں دوسرے بچوں سے موازنہ کرنا بچوں میں عدم اعتمادی اور ضد کو جنم دیتا ہے

 

 بچوں کو دوسرے ضرورت مند لوگوں کی مدد کرنے کی ترغیب دیں اسکے ساتھ ساتھ دوسرے بچوں سے انکا برتاؤ، دوستوں کے حقوق کی پاسداری بھی سکھائیں اور جھوٹ بولنے کے نقصانات، گالم گلوچ، چوری اور بے راہ وروی سے روکنے کے علاوہ انہیں اوائل عمر سے ہی محنت مشقت کا عادی بنائیں اور عیش کوشی اور آرام پسندی سے دور رکھیں.

 

 فی زمانہ بہت ضروری ہے کہ بچوں کو اس بات سے آگاہ کیا جاۓ کہ وہ اپنا بچاؤ اور اپنی حفاظت کیسے کر سکتے ہیں.. ایسی کونسی نازیبا حرکات ہیں جس کا اندازہ ہوتے ہی انہیں اس انسان سے بچنا چاہیے جو ان حرکات کا موجب ہو.. اسکے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو اتنا اعتماد دیجیے کہ وہ آپ سے ہر بات کر سکیں. انکی ہر بات توجہ سے سنیں اور اس کا محرک جاننے کی کوشش کریں..

 

سب سے آخر میں بس یہی کہ اگر آپ والدین ہیں تو یہ آپ پر نہ صرف اللہ کا احسان ہے بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے کوشش کریں کہ اسلامی خطوط پر اپنے بچوں کی پرورش کرتے ہوئے انہیں دنیا کا بہتر طریقے سے سامنا کرنے کا اعتماد بھی فراہم کریں.. بحیثیت والدین اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور انہیں اپنے ہر کام سے مقدم رکھیں۔۔

 

 

سیدہ عاصمہ علی1 Posts

<

0 Comments

Leave a Comment

Login

Welcome! Login in to your account

Remember me Lost your password?

Lost Password