breaking news New
کتاب اور کتب بینی ، مطالعہ- عائشہ آرائیں - سحر ڈاٹ ٹی وی - بلاگز

کتاب اور مطالعہ

موضوع :  کتاب اور مطالعہ:

اس مضمون میں ہم پڑھیں گے ۔
کتب بینی /مطالعے کے  اہمیت
مطالعے کے فوائد
کتب بینی کےسفر میں معاشرے کا کردار اور ذمے داری ۔
دور جدید اور کتب بینی ۔
مطالعے میں کمی کے رجحان کی وجوہات
مطالعے کے دیگر ذرایع
کتب بینی کے فروغ کے لیے ضروری تجاویز

کتب بینی /مطالعے کے  اہمیت

کتاب اور کتب بینی نے ہر دور میں اپنی عظمت اور اہمیت منوائی ہے۔

کتابیں انسان کی سب سے بہترین دوست ثابت ہوتی ہیں۔ ایسی دوست جو کبھی آپ سے اکتاہٹ محسوس نہیں کرت

یں۔ کتاب پڑھنے سے روحِ انسانی کو فرحت بخش تازگی کا احساس ہوتا ۔ اچھی کتابیں پڑھنے والے لوگوں کا ذہن بہت سے منفی خیالات سے دور رہتا ہے۔

انسان کی فکری آبیاری میں مطالعہ کو اپنی الگ اہمیت حاصل ہے ۔مطالعے کا شوق کہ زندگی اورکائنات کو مختلف زاویوں سے دیکھنے اور پرکھنے کے لیے غور فکر کی راہ ہموار کرتا ہے ۔

مطالعہ کا مشغلہ کبھی انسان کو تنہا نہیں ہونے دیتا۔ جب بھی تنہائی کا احساس ہو انسان کسی اچھی کتاب کا مطالعہ کر کے اپنی تنہائی دور کرسکتا ہے۔

یہ مشغلہ انسان کو شعورکی نئی جہتوں سے روشناس کرواتا ہے۔

مطالعے کے فوائد ۔

مطالعہ محض فارغ وقت کا مشغلہ نہیں بلکہ قاری کو اچھے برے، سچ و جھوٹ کا فرق کرنا بھی سکھاتا ہے۔

سوچ کے بند دروازوں کو کھول کر جہالت کے اندھیروں سے نکالتا ہے۔

مطالعہ سے انسان قدیم اقوام ، ان کے رہن سہن، طور اطوار، تہذیب اور ثقافت سے بھی روشناس ہوتا ہے۔

کتب بینی کےسفر میں معاشرے کا کردار اور ذمے داری ۔

ہر دور کے مفکرین، علما،فلسفی اور دیگر شخصیات کے مشاہدات اور تجربات سے فائدہ اٹھانے کے لئے مطالعہ بہت اہم ہے ۔

اس کے ساتھ ساتھ ، کتا ب دوستی ، شعور کی پختگی اور  معاشرے کی کمزوریوں کو سمجھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
مصنففین ہمیشہ اپنی علمی وسعت، عقل و شعور، اپنے تجربے و مشاہدے اور فکری صلاحیتوں کے مطابق کتاب لکھتے ہیں ۔ اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ کس کتاب کا انتخاب کرتا ہے۔
کتابیں ایک ایسا  سمندر  ہیں جس میں شعور کے بے بہا جزیرے موجود ہیں ، جن تک رہنمائی ، والدین ، اور اساتذہ جیسے باشعور افراد کرتے ہیں۔

ایسا نہ ہو تو عین ممکن ہے کہ  کچھ گمراہ کن کتابوں کا مطالعہ ، آدمی کو ، سیدھے راستے سے بھی بھٹکتا دیتا ہے ۔

دور جدید اور کتب بینی ۔

آج کے دور  میں کتب بینی کا رجحان پہلے کی نسبت  کم ہوتا نظر آتا ہے ۔

ایسا نہیں ہے کہ آج کے نوجوان، بچے یا طالب علم وغیرہ کتابیں بالکل ہی نہیں پڑھتے ۔

مگر یہ حقیقت ہے کہ اب کتابوں سے پہلے والی دوستی نہیں رہی۔

طالب علم صرف اپنے نصاب کی کتابیں پڑھنے میں مگن رہتے ہیں ۔

جو اپنے آپ میں ایک اچھا عمل بھی ہے، مگر مسئلہ تب جنم لیتا ہے جب طالب علم نصاب کی کتاب کو علم حاصل کرنے کی بجائے فقط امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے پڑھتا ہے ۔

اور ہر ذی شعور انسان کی نظر میں یہ رجحان غلط ہی کہلاتا ہے۔

 

مطالعے میں کمی کے رجحان کی وجوہات

مطالعہ میں کمی کی ایک وجہ ویڈیو گیمز اور انٹرنیٹ بھی ہیں۔

جہاں انٹرنیٹ کے فوائد ہیں وہیں ایک اہم نقصان نوجوانوں اور بچوں کی کتب سے دوری بھی ہے۔

نوجوان بجائے انٹرنیٹ سے فائدہ اٹھانے کے اپنا قیمتی وقت ضایع کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

حالانکہ اگر دیکھا جائے تو انٹرنیٹ کی وجہ سے ہر چیز پر رسائی بہت آسان ہوگئی ہے ۔

ان چیزوں میں کتابیں بھی شامل ہیں۔

بہت سی ویب سائٹس کتابیں آن لائن آرڈر کرنے پر گھر بیٹھے آپ تک پہنچا دیتی ہیں۔

بہت سی ویب سائٹس ایسی بھی ہیں جو مفت کتابیں پڑھنے اور ڈاٶن لوڈ کرنے کی سہولت بھی مہیا کرتی ہیں۔ نوجوان چاہیں تو اپنے موبائل یا لیپ ٹاپ سے بھی مطالعہ کر سکتے ہیں۔

مگر بچے اور نوجوان ان سہولیات سے خاطر خواہ فوائد حاصل کرتے دکھائی نہیں دیتے ۔

اور اس طریقہ کار کا نقصان بھی ہے اور وہ یہ کہ ہر وقت موبائل یا لیپ ٹاپ استعمال کرنے سے آنکھوں کی نظر کمزور ہو سکتی ہے۔ اس

ی طرح کی وجوہات کی بنا پر بھی کتاب کی اہمیت زیادہ ہوجاتی ہے۔

 

مطالعے کے دیگر ذرایع

مطالعہ کا دوسرا زریعہ اخبارات اور رسائل بھی ہوتے ہیں۔ بچوں اور بڑوں کے لئے مختلف معلوماتی رسائل پہلے کی طرح اب بھی شایع ہوتے ہیں ۔ مگربچے انٹرنیٹ پر ویڈیوز دیکھنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ اس سلسلے میں والدین اور اساتذہ کا فرض بنتا ہے کہ بچوں کو سبق آوز کہانیوں اور دیگر معلومات پر مبنی رسائل ،اخبارات اور کتابیں پڑھنے کی تلقین کریں اور اچھی کتب کا انتخاب کرنے میں ان کی رہنمائی فرمائیں ۔ کیوں کہ اچھی کتاب کسی سیپ کی طرح اپنے اندر بیش قیمتی موتی سموئے ہوئے ہوتی ہیں۔

کتب بینی کے فروغ کے لیے ضروری تجاویز

کتب بینی کے فروغ کے لئے ضرور ہے کہ دورِ جدید کے بچوں کو کتاب کی اہمیت کا احساس دلایا جائے ۔

اور یہ احساس ظاہر ہے کہ دو چار دن میں نہیں دلایا جاسکتا ۔ والدین، اساتذہ اور معاشرے کے دوسرے افراد کو اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر بچوں کو کتاب کے مطالعہ کی ترغیب دینی پڑے گی

روزانہ کی بنیاد پر نصاب کی کتابوں کے علاوہ کوئی ایک سبق آموز کہانی یا کوئی بھی معلوماتی تحریر کتاب سے دیکھ کر اگر والدین اور اساتذہ پڑھ کر سنائیں

۔ گو کہ یہ کافی وقت طلب اور صبر آزما کام ہے مگر کچھ عرصہ میں یقینا نتائج اچھے نکلیں گے۔
جو قوم اچھی کتب کا انتخاب کرکے مطالعہ کرنے میں دلچسپی لیتی ہے۔ اس قوم کے لئے علم ،عقل شعوراور آگاہی کی نئی راہیں کھلتی ہیں۔

<

0 Comments

Leave a Comment

Login

Welcome! Login in to your account

Remember me Lost your password?

Lost Password