breaking news New

عابدہ پروین کی سوانح

عابدہ پروین ایک مشہور صوفی گائیک جنہیں ‘صوفی گائیکی کی ملکہ’ کہا جاتا ہے صرف تین سال کی عمر میں گانا شروع کرنے والی 20 فروری 1954 کو لاڑکانہ سندھ میں پیدا ہوئیں ۔ وہ گائیکہ کہ جس نے سحر انگیز انداز میں صوفی کلام کو نا صرف برصغیر بلکہ پوری دنیا تک پہنچایا اور ساتھ ہی ساتھ صوفی شعراء کے پیغام کو بھی اپنی دلفریب آواز میں پوری دنیا کو سنایا اور سننے والوں کے دلوں میں گھر کر لیا انکی روحانی نسبت مشہور صوفی بزرگ سلطان باہو کی خانقاہ سے جڑی ہے ۔عابدہ پروین نے ایک انٹرویو میں ہونے والی گفتگو میں بتایا کہ :
“میں اپنے بابا سے بہت اٹیچڈ تھی کلاسیکل میوزک انکی روح کا حصہ تھا٬اس نے مجھے اپنی طرف کھینچا٬ہم درگاہ میں کئی کئی گھنٹے بیٹھے رہتے تھے اور مختلف تہواروں میں گایا بھی کرتے تھے جس کل ر میں میں پلی بڑھی ہوں یہ سب عام تھا۔”
چونکہ عابدہ پروین ایک گائک گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں اسی وجہ سے انہوں نے اپنی تعلیم میں انہوں نے ماسٹرز کیا خاص طور پہ اردو سندھی اور فارسی زبان میں ۔ انہوں نے اپنی فنی تعلیم کا آغاز اپنے ہی والد کے میوزک سکول سے کیا۔ انہوں نے اپنی فنی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے 1973 میں کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ایک روشن ستارے کی طرح موسیقی کی دنیا میں جگمگانے لگیں انہوں نے اپنا پہلا کلام سندھی زبان میں گایا ۔ ان کے کلام میں ایک سحر کی سی کیفیت ہوتی ہے ہر عمر کے سننے والے بڑی محویت کے ساتھ سنتے ہیں ۔ کلام چاہے سندھی کا ہو اردو یا کسی بھی زبان میں بس اس میں چھپا عشق کا جادو عابدہ پروین کے زریعے لوگوں کے دلوں میں منتقل ہو جاتا ہے اور سب سر دھن رہے ہوتے ہیں اور جھوم اٹھتے ہیں انکا کلام سن کر ۔
عابدہ پروین بیرون ممالک میں بھی کئی شوز کر چکی ہیں اور موسیقی کی دنیا میں ایک منفرد شناخت کی حامل رہی ہیں 2012میں انہیں بھارت میں “بیگم اختر اکیڈمی آف غزل” کی طرف سے ‘لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا ۔
اسی طرح دنیا کے کئی حصوں میں جا کر اپنے سر بکھیرے اور صوفی کلام اور اپنے ملک کا نام روشن کیا ۔ اور پاکستان کے کلچر کو فروغ دینے میں بھی ایک نمایاں کردار ادا کیا ۔
سندھی کی سوہنی مٹی کی محبت میں گندھی اور سچ سروں میں ڈھکی آواز کی مالک عابدہ پروین پاکستان میں بھی وہ ایک بہترین اور مشہور گائک کے نام سے جانی جاتی ہیں عابدہ پروین کو 1982میں صدر پاکستان اور حکومت پاکستان کی طرف سے پرائیڈ آف پرفارمنس کا ایوارڈ دیا گیا ۔ اس کے علاؤہ آپ نے ہولی وڈ اور لولی وڈ میں بھی بہت سارے گلوکاروں کے ساتھ کام کیا ۔ عابدہ پروین نے پاکستان کے بلکہ یوں کہیں دنیا کے مشہور میوزک شو coke studio میں بھی اپنا کلام پیش کیا جن میں رموز عشق ٬نگاہ درویشان ٬اور سوز عشق جیسے مشہور گانے گائے اس کے علاؤہ 2014 میں انہوں نے ‘مجں صوفی ہوں بھی پیش کیا اور راحت فتح علی خان کے ساتھ چھاپ تلک بھی گایا ۔ 2016مجں انہوں نے شہیدوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ‘اے راہ حق کے شہیدوں ‘جیسا ترانہ بھی پیش کیا ۔
اور اسی طرح اور بہت سارے خوبصورت کلام انہوں نے اپنے خوبصورت انداز میں پیش کئے اور ہر ہر کلام کے بعد اور زیادہ روشن ہوتی گئیں ۔ انکی اسی قابلیت کی وجہ سے بہت سارے ایوارڈ ملے جن میں سے کچھ یہ ہیں ۔ ستارہ امتیاز 2005 میں انہیں پرویز مشرف کی طرف سے دیا گیا ۔ 2016 میں آصف علی زرداری کی حکومت میں حلال امتیاز جیسے ایوارڈ سے نوازا گیا اس کے علاؤہ پاکستان ٹیلی ویژن ایوارڈ٬ لال شہباز قلندر میڈل بھی دیا گیا ۔
عابدہ پروین نا صرف موسیقی کے میدان میں بلکہ آرٹ اور انکی گیلری میں جیولری پینٹنگز اور انکی میوزک سی ڈی موجود ہیں ساتھ ہی ساتھ اس میں کئی میوزک اسٹوڈیو بھی موجود ہیں ۔
عابدہ پروین کے لباس کا ایک مخصوص انداز ہے جو سیدھے فروک ہوتے ہیں جن کے ساتھ وہ سندھ کا مشہور دوپٹہ جسے اجرک کہا جاتا ہے جو انکے پاس ایک تعداد میں موجود ہیں اور یہ بڑی عقیدت سے اسے اوڑھے نظر آتی ہیں ۔
عابدہ پروین کا کارنامہ حیات جب بھی لکھا جائے گا اس میں یہ ذکر ضرور ہوگا کہ عابدہ پروین شاہ لطیف کے کلام کو عام کرنے والا سب سے بڑا اور آخری نام عابدہ پروین کا ہے۔ انہوں نے شاہ لطیفے کے کلام کو ذیادہ سے ذیادہ لوگوں کو پہنچانے کے لئے اسکا ترجمہ کئی زبانوں میں کروایا ۔ صوفیانہ کلام کی طرف رجحان صرف ضروری ہے بلکہ یہ روحانی تازگی کا باعث ہے اور عابدہ پروین صوفیانہ کلام کو محبت پھیلانے کا ذریعہ سمجھ کر دل سے گاتی ہیں اور سننے والوں کو اسیر کرنے کا فن آج بھی جانتی ہیں ۔
ستاون سال کی عمر کو پہنچنے والی عابدہ پروین کچھ عرصے سے انکی طبیعت علیل ہونے کے باوجود وہ اپنے فن سے محبت میں سستی نہیں کرتیں اور آج بھی اسی جذبہ و سر مستی سے اپنے فن کا اظہار کرتی ہیں جو صرف انہیں سے مخصوص ہے۔

<

0 Comments

Leave a Comment

Login

Welcome! Login in to your account

Remember me Lost your password?

Lost Password