breaking news New
عالمی یوم رقص - عائشہ آرائیں - سحر ڈاٹ ٹی وی

29-April-2019 – عالمی یوم رقص

ہر سال 29 اپریل کو رقص کا عالمی دن منایا جاتا ہے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے زیر اہتمام غیر سرکاری تنظیم انٹرنیشنل ڈانس کونسل نے 1982 میں یہ دن روشناس کروایا اس کا مقصد دنیا میں رقص کی اہمیت کو فروغ دینا لوگوں میں رقص کی دلچسپی اجاگر کرنا تھا

دنیا بھر میں منائے جانے والے دیگر عالمی انسانی ایام میں رقص کا عالمی دن اک ایسا دن جس پر تمام دنیا کے مکاتب و مزاج خواہ وہ رہن و سہن طور و طریق تہذیب و ثقافت بادو نوش کفن و دفن خوشی و غم عقائد و نظریات شہری ہوں یا مضافاتی باہمی عدم اتحاد و اتفاق کے منبع و حامل ہوں یا نہ ہوں لیکن اس دن یعنی کہ رقص کے عالمی دن کے موقع پر تمام انسان بلا کسی تفریق و تقسیم کے محوئے رقص ہو کر اس دن کو مانتے اور مناتے ہیں آج کا موضوع رقص کا عالمی دن کی مناسبت ہے اس لئیے ہم رقص کے معنی رقص کی تاریخ رقص کی اقسام رقص کا تصور پاکستان میں رقص اور رقص سے وابستہ ہر باریک و بڑی بات پر قارئین کی افادیت کے لئیے لکھیں گے تو سب سے پہلے ہم جانتے ہیں رقص کے معنی کیا ہیں رقص کے معنی ہیں ناچنا اُچھل کود کرنا رقص کسے کہتے ہیں اصول رقص کے تحت اچھلنے‘ کودنے‘ جھومنے یا چکر لگانے کی کیفیت کو رقص کہتے ہیں

رقص کی اقسام

دنیا بھر میں رقص کی مختلف اقسام ہیں ہیں اور اس قدر ہیں کہ تمام پر اس تحریر میں احاط کرنا مضمون کو بحر طوالت بنانے کے مترادف ہوگا لہذا ہم رقص معروف اور مشہور اقسام کے تذکرے پر ہی اکتفاء کریں گے جو آپ ابھی ذیل میں پڑھنے والے ہیں سب سے پہلے ہم رقص کی قدیم تہذیب کے مرکز ہندوستان سے شروع کرتے ہیں یہاں رقص کی یہ اقسام مشہور و معروف ہیں

ﺑﮭﺮﺕ .ﻧﺎﭨﯿﺌﻢ.

ﺑﮭﻨﮕﮍﺍ .ﮐﺘﮭﺎﮐﻠﯽ. دیگر مشہور اقسام کی فہرست میں شامل رقص کی مختلف قسموں کے نام یہ ہیں

ﮐﺘﮭﮏ. ﺑﺎﻝ ﺭﻭﻡ ﺑﺮﻳﮏ ﮈﺍﻧﺲ

ﺑﮭﺮﺕ ﻧﺎﭨﯿﺌﻢ ﺑﮭﻨﮕﮍﺍ

ﺟﺎﯾﺌﻮ ﺟﮭﻤﺮ ﺟﮭﻮﻝ ﺭﻗﺺ

ﺭﻣﺒﺎ ﺳﺎﻟﺴﺎ ﺳﺎﻣﺒﺎ ﺳﺎﻣﺒﺎ ‏( ﺑﻮﻟﺮﻭﻡ ‏)ﺳﺎﻣﺒﺎ ‏( ﺑﺮﺍﺯﯾﻠﻮﯼ ‏) ﻓﻼﻣﻨﮑﻮ

ﻣﻌﺎﺻﺮ ﺭﻗﺺﻣﯿﻤﺒﻮ ﭨﯿﻨﮕﻮ ﮈﯾﻨﺰﻭﻥ ﮐﺘﮭﺎﮐﻠﯽ ﮐﺘﮭﮏ ﮐﯿﻮﺑﻦ ﺳﻮﻥ رقص کا تصور

ﺑﻌﺾ ﺍﺳﺎﺗﺬﮦ ﻓﻦ ﺭﻗﺺ ﮐﻮ ﻣﺼﻮﺭﯼ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺪﯾﻢ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺑﻠﮑﮧ ﺳﭻ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﻗﺺ ﮐﻮ ﮈﺭﺍﻣﺎ، ﻓﻦ ﺁﺭﺍﺋﺶ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﺳﯿﻘﯽ ﺟﯿﺴﮯ ﻓﻨﻮﻥ ﻟﻄﯿﻔﮧ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ اور یہ ہی تصور مقبول عام ہے

رقص کی تاریخ

رقص کو اعضاء کی شاعری کہا جاتا ہے رقص کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے حتنی بنی نوع انسانیت کی پاکستان کی قدیم تاریخی مقامات موہن جو ڈرو اور ہڑپہ میں محکمہ آثار قدیمہ کو ان علاقوں کے باشندوں کے رقص کرنے کے مختلف شواہد و آثار ملے ہیں اسی طرح

ﺁﺳﭩﺮﯾﻠﯿﺎ ﮐﮯ ﻗﺪﯾﻢ ﺑﺎﺷﻨﺪﮮ ﻏﺬﺍ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﻗﺺ ﮐﺮﺗﮯ تھے۔ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺩﻭ ﺍﻭﺭ ﻣﺬﮨﺐ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﺰﻭ ﺷﺎﻣﻞ تھا ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﮐﮯ ﺭﯾﮉ ﺍﻧﮉﯾﻨﺲ ، ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﺳﮯ ﺍﯾﺮﯼ ﺯﻭﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮑﺴﯿﮑﻮ ﺑﺎﺷﻨﺪﮮ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﻮ ﺑﻼﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻧﺎﭼﺎ ﮐﺮﺗﮯ تھے ۔ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺩﻭﮔﺮ ﺟﺎﺩﻭ ﻣﻨﺘﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺭﻗﺺ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻋﻤﻠﯿﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﮍﯼ ﺑﻮﭨﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺧﺎﺹ ﺩﺧﻞ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻭﮦ ﻭﮦ ﻧﺎﭼﺘﮯ ﻭﻗﺖ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﭼﻤﮍﮮ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﻨﮓ، ﭘﮭﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﭘﺘﮯ ﭘﮩﻦ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﻗﺪﯾﻢ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﻗﺺ ﮐﯽ ﻣﻘﺒﻮﻟﯿﺖ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻭﺟﮧ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﻌﺾ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﻣﻘﺎﺻﺪ ﭘﻮﺭﮮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻧﺎﭺ ﮐﺎ ﻣﺸﺘﺮﮐﮧ ﺟﺬﺑﮧ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﻻﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﻤﺎﺝ ﺳﮯ ﻣﻨﺴﻠﮏ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﺎﻗﺒﻞ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺑﻌﺾ ﺗﺼﺎﻭﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﻨﺎﻇﺮ ﻣﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﯽ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮒ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﺩﯾﮯ ﺍﯾﮏ ﺣﻠﻘﮯ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﺭﻗﺺ ﮐﺮﺗﮯ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ . ﺍﺱ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﯾﻮﻧﺎﻧﯽ ﮔﻠﺪﺍﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﻨﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﺼﺎﻭﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻗﻄﺎﺭ ﺩﺭ ﻗﻄﺎﺭ ﻧﺎﭼﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻨﺎﻇﺮ ﮐﯿﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ۔ پاکستان میں رقص

پاکستان میں ہر صوبے میں کئی کئی اقسام کے لوک رقص مقبول ہیں اور وہ بھی ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں ۔

پنجاب کے لوک رقص میں،بھنگڑا،لڈی،سمی،گدھاشامل ہیں ۔بھنگڑایہ پاکستان بھر میں عام رقص ہے جس کی ابتداء پنجاب کے خطے سے شروع ہوئی اور یہ اب ملک کے مقبول ترین لوک رقصوں میں سے ایک ہے۔لڈی پاکستان بھر میں شادی بیاہ کی تقریبات میں کیا جانے والا رقص ہے۔یہ آج کا نہیں صدیوں پرانا لوک رقص ہے ۔سمی پوٹھوہاری خطے سے شروع ہونے والا یہ لوک رقص بنیادی طور پر پنجاب کی قبائلی برادریوں کا روایتی ڈانس ہے۔گدھایہ بھنگڑے کی طرح انتہائی پرجوش رقص ہے، رقص کرنے والا عام طور پر تالیوں کی آواز کے ساتھ تیز ہوتا چلا جاتا ہے

بلوچستان کے لوک رقص میں لیوا،چاپ ،جھومرشامل ہے۔لیوا نامی رقص عام طور پر شادی بیاہ کے موقع پر لوگوں کی خوشی کے اظہار کے طور پر کیا جاتا ہے۔چاپ یہ بھی شادی بیاہ کے موقع پر کیا جانے والا لوک رقص ہے۔ اس میں ایک قدم آگے بڑھا کر پیچھے کیا جاتا ہے ۔جھومراسے سرائیکی رقص بھی مانا جاتا ہے اور بلوچستان میں بھی بہت عام ہے ۔

خیبر پختونخوا کے لوک رقص میں اٹن ،خٹک ،چترالی ڈانس قابل ذکر ہیں۔اٹن یہ ایسا لوک رقص ہے جو افغانستان اور پاکستان کے پشتون علاقوں میں عام ہے ۔عام طور پر ایک ہی دھن پر یہ رقص 5 سے 25 منٹ تک جاری رہتا ہے ۔خٹک ڈانس تلواروں کے ساتھ انتہائی تیز رفتاری سے کیا جانے والا یہ ڈانس مقبول ترین ہے ۔چترالی ڈانس یہ خیبرپختونخوا کے ساتھ گلگت بلتستان میں کیا جاتا ہے اور یہ کچھ لوگوں کے گروپ میں کیا جاتا ہے ، جس میں سے ہر ایک دوسرے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس رقص کا مظاہرہ کرتا ہے ۔

سندھ کے لوک رقص،دھمال اورہو جمالوہیں۔دھمال یہ عام طور پر صوفی بزرگوں کے مزارات یا درگاہ پر کیا جانے والا رقص ہے ۔جو انتہائی مستی کے عالم میں کیا جاتا ہے ۔ہو جمالویہ سندھ کا مشہور ترین لوک رقص ہے ، درحقیقت ہو جمالو ایک بہت پرانا گیت بھی ہے۔

On Apr 23, 2019 12:56 PM, “افق چینل” <jan165512@gmail.com> wrote:

رقص کی تاریخ

رقص کو اعضاء کی شاعری کہا جاتا ہے رقص کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے حتنی بنی نوع انسانیت کی پاکستان کی قدیم تاریخی مقامات موہن جو ڈرو اور ہڑپہ میں محکمہ آثار قدیمہ کو ان علاقوں کے باشندوں کے رقص کرنے کے مختلف شواہد و آثار ملے ہیں اسی طرح

ﺁﺳﭩﺮﯾﻠﯿﺎ ﮐﮯ ﻗﺪﯾﻢ ﺑﺎﺷﻨﺪﮮ ﻏﺬﺍ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﻗﺺ ﮐﺮﺗﮯ تھے۔ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺩﻭ ﺍﻭﺭ ﻣﺬﮨﺐ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﺰﻭ ﺷﺎﻣﻞ تھا ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﮐﮯ ﺭﯾﮉ ﺍﻧﮉﯾﻨﺲ ، ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﺳﮯ ﺍﯾﺮﯼ ﺯﻭﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮑﺴﯿﮑﻮ ﺑﺎﺷﻨﺪﮮ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﻮ ﺑﻼﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻧﺎﭼﺎ ﮐﺮﺗﮯ تھے ۔ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺩﻭﮔﺮ ﺟﺎﺩﻭ ﻣﻨﺘﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺭﻗﺺ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻋﻤﻠﯿﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﮍﯼ ﺑﻮﭨﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺧﺎﺹ ﺩﺧﻞ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻭﮦ ﻭﮦ ﻧﺎﭼﺘﮯ ﻭﻗﺖ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﭼﻤﮍﮮ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﻨﮓ، ﭘﮭﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﭘﺘﮯ ﭘﮩﻦ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﻗﺪﯾﻢ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﻗﺺ ﮐﯽ ﻣﻘﺒﻮﻟﯿﺖ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻭﺟﮧ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﻌﺾ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﻣﻘﺎﺻﺪ ﭘﻮﺭﮮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻧﺎﭺ ﮐﺎ ﻣﺸﺘﺮﮐﮧ ﺟﺬﺑﮧ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﻻﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﻤﺎﺝ ﺳﮯ ﻣﻨﺴﻠﮏ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﺎﻗﺒﻞ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺑﻌﺾ ﺗﺼﺎﻭﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﻨﺎﻇﺮ ﻣﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﯽ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮒ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﺩﯾﮯ ﺍﯾﮏ ﺣﻠﻘﮯ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﺭﻗﺺ ﮐﺮﺗﮯ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ . ﺍﺱ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﯾﻮﻧﺎﻧﯽ ﮔﻠﺪﺍﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﻨﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﺼﺎﻭﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻗﻄﺎﺭ ﺩﺭ ﻗﻄﺎﺭ ﻧﺎﭼﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻨﺎﻇﺮ ﮐﯿﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ۔ On Apr 23, 2019 12:58 PM, jan165512@gmail.com wrote:

پاکستان میں رقص

پاکستان میں ہر صوبے میں کئی کئی اقسام کے لوک رقص مقبول ہیں اور وہ بھی ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں ۔

پنجاب کے لوک رقص میں،بھنگڑا،لڈی،سمی،گدھاشامل ہیں ۔بھنگڑایہ پاکستان بھر میں عام رقص ہے جس کی ابتداء پنجاب کے خطے سے شروع ہوئی اور یہ اب ملک کے مقبول ترین لوک رقصوں میں سے ایک ہے۔لڈی پاکستان بھر میں شادی بیاہ کی تقریبات میں کیا جانے والا رقص ہے۔یہ آج کا نہیں صدیوں پرانا لوک رقص ہے ۔سمی پوٹھوہاری خطے سے شروع ہونے والا یہ لوک رقص بنیادی طور پر پنجاب کی قبائلی برادریوں کا روایتی ڈانس ہے۔گدھایہ بھنگڑے کی طرح انتہائی پرجوش رقص ہے، رقص کرنے والا عام طور پر تالیوں کی آواز کے ساتھ تیز ہوتا چلا جاتا ہے

بلوچستان کے لوک رقص میں لیوا،چاپ ،جھومرشامل ہے۔لیوا نامی رقص عام طور پر شادی بیاہ کے موقع پر لوگوں کی خوشی کے اظہار کے طور پر کیا جاتا ہے۔چاپ یہ بھی شادی بیاہ کے موقع پر کیا جانے والا لوک رقص ہے۔ اس میں ایک قدم آگے بڑھا کر پیچھے کیا جاتا ہے ۔جھومراسے سرائیکی رقص بھی مانا جاتا ہے اور بلوچستان میں بھی بہت عام ہے ۔

خیبر پختونخوا کے لوک رقص میں اٹن ،خٹک ،چترالی ڈانس قابل ذکر ہیں۔اٹن یہ ایسا لوک رقص ہے جو افغانستان اور پاکستان کے پشتون علاقوں میں عام ہے ۔عام طور پر ایک ہی دھن پر یہ رقص 5 سے 25 منٹ تک جاری رہتا ہے ۔خٹک ڈانس تلواروں کے ساتھ انتہائی تیز رفتاری سے کیا جانے والا یہ ڈانس مقبول ترین ہے ۔چترالی ڈانس یہ خیبرپختونخوا کے ساتھ گلگت بلتستان میں کیا جاتا ہے اور یہ کچھ لوگوں کے گروپ میں کیا جاتا ہے ، جس میں سے ہر ایک دوسرے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس رقص کا مظاہرہ کرتا ہے ۔

سندھ کے لوک رقص،دھمال اورہو جمالوہیں۔دھمال یہ عام طور پر صوفی بزرگوں کے مزارات یا درگاہ پر کیا جانے والا رقص ہے ۔جو انتہائی مستی کے عالم میں کیا جاتا ہے ۔ہو جمالویہ سندھ کا مشہور ترین لوک رقص ہے ، درحقیقت ہو جمالو ایک بہت پرانا گیت بھی ہے۔

رقص کی تاریخ

رقص کو اعضاء کی شاعری کہا جاتا ہے رقص کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے حتنی بنی نوع انسانیت کی پاکستان کی قدیم تاریخی مقامات موہن جو ڈرو اور ہڑپہ میں محکمہ آثار قدیمہ کو ان علاقوں کے باشندوں کے رقص کرنے کے مختلف شواہد و آثار ملے ہیں اسی طرح

ﺁﺳﭩﺮﯾﻠﯿﺎ ﮐﮯ ﻗﺪﯾﻢ ﺑﺎﺷﻨﺪﮮ ﻏﺬﺍ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﻗﺺ ﮐﺮﺗﮯ تھے۔ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺩﻭ ﺍﻭﺭ ﻣﺬﮨﺐ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﺰﻭ ﺷﺎﻣﻞ تھا ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﮐﮯ ﺭﯾﮉ ﺍﻧﮉﯾﻨﺲ ، ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﺳﮯ ﺍﯾﺮﯼ ﺯﻭﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮑﺴﯿﮑﻮ ﺑﺎﺷﻨﺪﮮ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﻮ ﺑﻼﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻧﺎﭼﺎ ﮐﺮﺗﮯ تھے ۔ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺩﻭﮔﺮ ﺟﺎﺩﻭ ﻣﻨﺘﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺭﻗﺺ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻋﻤﻠﯿﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﮍﯼ ﺑﻮﭨﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺧﺎﺹ ﺩﺧﻞ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻭﮦ ﻭﮦ ﻧﺎﭼﺘﮯ ﻭﻗﺖ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﭼﻤﮍﮮ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﻨﮓ، ﭘﮭﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﭘﺘﮯ ﭘﮩﻦ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﻗﺪﯾﻢ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﻗﺺ ﮐﯽ ﻣﻘﺒﻮﻟﯿﺖ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻭﺟﮧ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﻌﺾ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﻣﻘﺎﺻﺪ ﭘﻮﺭﮮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻧﺎﭺ ﮐﺎ ﻣﺸﺘﺮﮐﮧ ﺟﺬﺑﮧ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﻻﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﻤﺎﺝ ﺳﮯ ﻣﻨﺴﻠﮏ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﺎﻗﺒﻞ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺑﻌﺾ ﺗﺼﺎﻭﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﻨﺎﻇﺮ ﻣﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﯽ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮒ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﺩﯾﮯ ﺍﯾﮏ ﺣﻠﻘﮯ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﺭﻗﺺ ﮐﺮﺗﮯ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ . ﺍﺱ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﯾﻮﻧﺎﻧﯽ ﮔﻠﺪﺍﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﻨﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﺼﺎﻭﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻗﻄﺎﺭ ﺩﺭ ﻗﻄﺎﺭ ﻧﺎﭼﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻨﺎﻇﺮ ﮐﯿﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ

<

0 Comments

Leave a Comment

Login

Welcome! Login in to your account

Remember me Lost your password?

Lost Password