breaking news New

پاکستان کو درپیش چند مسائل

میں ایک پاکستانی شہری ہوں، پاکستان کی مٹی میرے اور میرے ہم وطنوں کو بھی پیاری ہے. جب بات آتی ہے اپنے ملک کو ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں دیکھنے کی تو اس بات پر عملدرآمد کرنے میں سالوں بیت جاتے ہیں جس کی وجہ بہت سے درپیش مسائل ہیں جن میں سے کچھ کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں،

 غربت

ہمارے ملک کا تقریباً 65٪ غریب طبقے کا ہے، یہ کہنا مناسب نہیں کہ ہم سیاستدانوں کے قدم چومتے ہیں تو غریب، غریب سے غریب تر ہوتا جاتا ہے. پیسے کی قدر گرنے سے غربت میں اضافہ ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ، میں اس بات سے بلکل متفق نہیں ہوں. غربت کے فیصد میں اضافے کے اصل ذمہ دار ہم انسان خود ہیں اپنی ہی ترقی کی رکاوٹ ہم خود ہیں جس کو مزید بیان کرتا چلوں کہ جب خداوند باری تعالیٰ نے جنت کو ہم ایمان والے لوگوں کے لئے تو مفت کیا ہے اگرچہ اس مفت چیز کو پانے کے لئے خدا نے اس فانی دنیا میں کچھ سختیاں رکھی ہیں دوسرے لفظوں میں کہا جاۓ تو فرض باتیں، حقوق اللہ و حقوق العباد وغیرہ وغیرہ پہ عمل کا کہا جو کہ مفت ہی ہے بس انسان کی جسمانی طاقت کا زیادہ استعمال ہے، یہی وجوہات جنت میں لے جائینگی…. اسی طرح اگر بعد میں ملنے والی کامیابی پر محنت کرلیں تو غربت کے اس طوفان اور اس سے پیدا ہونے والی مایوسی میں کسی حد تک کمی لائی جا سکتی ہے، اگر انسان کو علم ہوجائے کہ ہمیں اس مشکل سے باہر کیسے نکلنا ہے تو بآسانی اپنے فاصلے کو طے کرلیتا ہے.

بیروزگاری

ہمارے ملک میں نوجوان نسل اس پریشانی میں ہے کہ کب ہمیں نوکری ملے گی اور کب ہم کمانے لائق ہوں گے. اس دور میں لوگ دوسروں کی پیروکاری میں یا دوسروں کے آسرے میں رہ کر اپنے بیروزگار ہونے کی وجہ وہ خود بنتے ہیں.
انسان دوسرے کی آس میں رہ کر اس قدر مجبور ہوجاتا ہے کہ اسے اپنی زندگی کے دوسرے موڑ نظر ہی نہیں آتے، اگر تو کسی کو کچھ روزگار مل بھی جاتا ہے تو وہ اتنے ناشکرے ہوتے ہیں کہ خدا کی طرف سے دی ہوئ نعمت کو لات مار دیتے ہیں. اگر انسان اپنی محنت کشی سے ایک پائی بھی کمالے اور وہ اس کمائ پہ رب کا شکرانہ ادا کر لیں تو خدا انکو اور زیادہ عطا فرماتے ہیں….

تعلیمی مسائل

اس ملک میں دنیاوی تعلیم ایک دھندا بن گیا ہے پھر چاہے کیسے ہی درجے کی تعلیم ہو، تعلیم کے ان مسائل میں ہم ذمہ دار حکمرانوں کو ٹھہراتے ہیں جبکہ اصل وجہ ہم طالب علموں کا اور والدین کا کردار ہے، ان سب میں نمایاں کردار والدین ادا کرتے ہیں. والدین اکثر اولاد پہ رعب ڈالتے ہیں اور ان کی خوشیاں چھین لیتے ہیں اور ان اولاد کو دین کی تعلیم سے دور رکھتے ہیں یا والدین اگر سخت مزاج نا ہو تو اولاد اس قدر بگڑ جاتی ہے وہ جس سمت جا رہے ہوتے ہیں کہ انکے لئے تعلیم کو ایک مذاق بنا کر رکھ دیا جاتا ہے اور جب امتحان کا وقت جیسے تیسے قریب آتا جاتا ہے تو ایک خوف بنا لیتے ہیں اور عین امتحان کے دن نقل کرکے خود کو کامیاب کراتے ہیں، اگر یہی کام شروع میں کرتے تو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے.

 سیاسی مسائل

اس ملک میں سیاست قومیت فرقہ واریت کی بنیاد پر کی جاتی ہے، اصل میں سیاست میں آکر لوگوں کی بھلائی کے کام کرنے ہوتے ہیں اب چونکہ اقتدار میں آکر لوگ اپنا ذاتی مفاد میں اس قدر مگن ہوجاتے ہیں کہ اوروں کے کام کاج کو اہمیت نہیں دیتے….
ہم اس ملک میں رہتے ہیں جہاں سیاست بندوقوں کی نوک پر چلتی ہے، کچھ باتیں گردونواح میں ہیں کہ فوج کا عملدرآمد سیاست میں بہت ہے جو ایک سچ کی عکاسی بھی کرتا ہے مگر ہمارے لئے ایک مجبوری بھی ہے کہ سیاست دانوں نے جس قدر ذاتی مفاد کے جو کام کئے وہ سماج کے لائق نہیں رہتے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ فوج میں میں ہی اکثر غدار پاۓ جاتے ہیں جو کرپشن تو کرتے ہیں ساتھ ملک غداری بھی کام کرتے ہیں جن سے بین الاقوامی سطح پر ہمارے ملک کی جس طرح تذلیل کی جاتی اس بات اندازہ تک نہیں لگایا جاسکتا….

ان سب مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جاۓ تو یہی وہ اکثر وجوہات ہیں جس وجہ ہمارا ملک ان ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں شامل ہونے کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔۔۔

<

Login

Welcome! Login in to your account

Remember me Lost your password?

Lost Password